Monday, 24 March, 2008, 05:50 GMT 10:50 PST
اتوار کے روز بغداد میں چار امریکی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد عراق پر پانچ سالہ قبضے کے دوران مرنے والے امریکی فوجیوں کی تعداد چار ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔
زخمی امریکی فوجیوں کی تعداد بھی ہزاروں میں ہیں۔ زخمی فوجیوں کی ایک بڑی تعداد اپنے جسم کے مختلف حصے کھو چکے ہیں۔
اتوار کے روز چار امریکی فوجی اس وقت ہلاک ہو گئے جب ان کی گاڑی کو جنوبی بغداد کے علاقے میں پیٹرولنگ کے دوران بم سے آڑا دیا گیا۔
عراق میں امریکی فوجیوں کو سب سے زیادہ نقصان سڑک پر نصب کیے جانے والے بموں سے ہوا۔
امریکہ نے عراق میں بھاری جانی نقصان اٹھانے کے باوجود تیس ہزار مزید امریکی فوجی تعینات کیے جس کے بعد صورتحال قدرے بہتر ہوگئی اور ہر مہینے تشدد کے واقعات میں مرنے والے شہریوں کی تعداد دو ہزار ماہانہ سے گھٹ کر چار سو پر پہنچ گئی۔
لیکن پچھلے دو مہینوں میں عراق میں تشدد کی ایک نئی لہر آئی ہے۔ اس نئی لہر میں خواتین خود کش بمبار بھی میدان میں اتری ہیں جس سے شہریوں کی ہلاکتوں میں ایک بار پھر تیزی آ گئی ہے۔
اتوار کو تشدد کے مختلف واقعات میں پچاس سے زائد لوگ ہلاک ہوئے۔ تشدد کی وارداتوں میں خود کش حملے اور محفوظ سمجھے جانے والے گرین زون پر مارٹر گولوں کی بارش کر دی گئی جس سے کم از کم پندرہ شخص ہلاک ہو گئے۔
عراق میں عام شہریوں کی ہلاکت کے بارے میں متضاد دعوے کیے جاتے ہیں۔ بعض عالمی تنظمیوں کے مطابق عراق پر امریکی حملے کے بعد مرنے
والے عام لوگوں کی تعداد لاکھوں میں ہے جبکہ عراقی حکومت مرنے والوں کی تعداد ایک لاکھ کم بتاتی ہے۔