Sunday, 23 March, 2008, 09:02 GMT 14:02 PST
امریکی نائب صدر ڈک چینی نے فلسطینی رہنماؤں کے ساتھ ملاقات سے پیشتر اسرائیل کی پالیسیوں کی بھر پورحمایت کا اعلان کیا ہے۔
ڈک چینی اتوار کے دن رملہ میں غرب اردن کے ایک قصبے میں فلسطینی رہنماؤں سے ملاقات کررہے ہیں۔
ایہود اولمرٹ کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں اسرائیل کی سکیورٹی کے حوالے سےامریکہ کے عہد کو ’غیر متزلزل، قرار دیا۔
ڈک چینی کا کہنا تھا کہ’ امریکہ اسرائیل پر ان معاملات کے حوالے سے کبھی دباؤ نہیں ڈالے گا جو کہ اسرائیل کی سکیورٹی کے لیے خطرہ بن سکیں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’اسرائیل کی سکیورٹی کے حوالے سے امریکہ اپنے مؤقف پر قائم ہے۔‘اور اس بات پر بھی کہ ’اسرائیل کو اپنی حفاظت اور دہشت گردی، راکٹ کے حملوں اور اسرائیل کی تباہی کی خواہاں قوتوں سے دفاع کا بھی پورا پورا حق حاصل ہے۔‘
ڈک چینی نے ایک آزاد فلسطین ریاست کے قیام کے حوالے سے امریکہ کے عزم کو دہراتے ہوئے کہا کہ فلسطینی رہنماؤں کو’امریکہ کی نیک نیتی کا یقین ہونا چاہیے‘۔
ان کا کہنا تھا کہ’ ہم اس تنازعہ کا پرامن کا حل چاہتے ہیں اوراس حوالے سے ہونے والی دہشت گردی کاخاتمہ بھی جس نے اسرائیلیوں کو اتنی تکلیف میں مبتلا کیا اور ہم فلسطینی عوام کے لیے بھی زندگی کی نئی شروعات کے خواہش مند ہیں‘۔
ڈک چینی کا کہنا تھا کہ تاریخ نے ثابت کیا ہے کہ ’اسرائیلی قوم نےامن کی خاطر بڑی قربانیوں سے بھی دریغ نہیں کیا‘۔ اس سے قبل امریکی صدر جارج بش نے بھی کہا تھاکہ ’ وہ پرامید ہیں کہ اپنے اقتدار کے آخری دس مہینوں میں مشرق وسطیٰ میں امن معاہدہ کرانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔‘
ایہود اولمرت اور ڈک چینی نے مشترکہ طور پر مشرق وسطیٰ میں امن وامان کی صورتحال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمیں پورے خطے خصوصًا غزہ، لبنان، شام اور ایران میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے اوران طاقتوں کو بھی جو کہ دنیا میں امن و امان کی کوششوں کے خلاف برسر پیکار ہیں‘۔
ایہود اولمرٹ کا کہنا تھا کہ امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ لائحہ عمل کے حوالے سے کئی معاملات زیر غور آئے جن میں ایران اور فلسطین کے ساتھ امن مذاکرات بھی شامل ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم اپنے ہمسایہ ممالک خاص کر شام اور لبنان میں حزب اللہ کی حرکات پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
دوسری طرف فلسطینی تنظیم حماس کے ترجمان فوزی برہوم نے ڈک چینی کے بیان کو یکطرفہ اور ’مکمل طور پر اسرئیلی قبضے کی حمایت قرار دیا ہے‘۔ان کا کہنا تھا کہ اس مشترکہ بیان سے ثابت ہوتا ہے کہ امریکہ ’فلسطینی لوگوں کے خلاف جنگ میں اسرائیل کا اتحادی ہے‘۔
یروشلم میں بی بی سی کے نامہ نگار ٹم فرینک کا کہنا ہے کہ اسرائیلی اور فلسطینی عوام امن معاہدے میں کسی پیش رفت کےحوالے سےشکوک
و شبہات میں مبتلاہیں۔ رائے عامہ پر مشتمل سروے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ خطے میں امن کے لیے امریکی کوششوں کے نتیجے میں حالیہ
مذاکرات کے حوالے سے عوام کسی فوری معاہدے کے بارے میں زیادہ پریقین نہیں ہیں۔