Friday, 21 March, 2008, 00:09 GMT 05:09 PST
القاعدہ تنظیم کے رہنما اسامہ بن لادن نے اپنے ایک اور پیغام میں مسلمانوں پر زور دیا ہے کہ فلسطین کی حمایت کا بہتریں طریقہ یہ ہے کہ وہ عراق میں جاری مزاحمت میں شامل ہو جائیں۔
اسامہ بن لادن کا یہ گزشتہ دو دنوں میں دوسرا پیغام ہے۔ بدھ کو انٹرنیٹ پر جاری ہونے والے اپنے پہلے پیغام میں انہوں نے ڈنمارک میں پیغمبر اسلام کے توہین آمیز کارٹونوں کی اشاعت پر یورپی برادری کو سنگین نتائج کی دھمکی دی تھی۔
گزشتہ سال نومبر کے بعد اسامہ بن لادن کے گزشتہ دو دنوں میں دو بیان سامنے آئے ہیں۔
تازہ ترین پیغام میں اسامہ بن لادن نے ایک بار پھر مسئلہ فلسطین اور مقبوضہ علاقوں سے اسرائیل کی طاقت کے ذریعے بے دخلی کی بات کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ فلسطین کے مسئلہ کی حمایت کا بہتریں طریقہ یہ ہے کہ مسلمان عراق میں جاری امریکی فوج کے خلاف مزاحمت میں شامل ہو جائیں۔ انہوں نے عراق کو فلسطین کے جہاد کا قریب ترین محاذ قرار دیا ہے۔
مسئلہ فلسطین کو اجاگر کرنے سے القاعدہ کے رہنما کو علم ہے کہ وہ ایک ایسے مسئلہ پر بات کررہے ہیں جس کی باز گشت پوری مسلم دنیا میں سنائی دیتی ہے۔
کارٹونوں کے مسئلہ پر بات کرکے دفاع امور کے مغربی ماہرین کے مطابق اسامہ نے ایک بار پھر اپنے اس موقف کو تقویت دی ہے کہ اسلام اور مسلمانوں کو پوری دنیا میں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
گو مغربی ممالک کی خفیہ ایجنسیاں اب بھی القاعدہ کو ایک بڑا خطرہ قرار دیتی ہیں لیکن وہ اس بات پر بھی مضر ہیں کہ حالیہ مہینوں میں القاعدہ کو شدید نقصانات اٹھانے پڑے ہیں جن میں عراق میں صورت حال میں تبدیلی اور اس کے چند بڑے اور اہم رہنماوں کی گرفتاریاں بھی شامل ہیں۔