Wednesday, 19 March, 2008, 12:31 GMT 17:31 PST
جیمی کومرا سیمی
بی بی سی نیوز، واشنگٹن
جوں جوں امریکی صدارتی انتخابات کے امیدواروں کی دوڑ ایک نازک مرحلے میں داخل ہورہی ہے ویسے ویسے ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کے لیے گڑے مردے بھی اکھاڑے جارہے ہیں اور ایک دوسرے کی حب الوطنی کو چیلنج بھی کیا جارھا ہے۔
ڈیموکریٹس امیدوار صدارتی نامزدگی حاصل کرنے کی دوڑ میں شامل باراک اوباما کو اپنے سابق خاندانی پادری جیرمی رائٹ کے حوالے سے حب الوطنی کی کمی کے طعنوں کا سامنا ہے۔پادری جیرمی رائٹ نے باراک اوباما کی شادی کروائی اور انکی بیٹی کو بپتسمہ دیا۔
اسکے علاوہ دو ہزار تین میں پادری رائٹ نے اپنے ایک اور وعظ میں امریکی سیاہ فاموں کی حالتِ زار کی بات کرتے ہوئے کہا کہ ’خدا
امریکہ کو غارت کرے جس نے اپنے ہی شہریوں کو انسانیت کا درجہ نہیں دیا۔‘
|
|
تاہم باراک اوباما کا کہنا ہے کہ نہ تو وہ اس وعظ میں شریک تھے جس میں پادری جیرمی رائٹ نے یہ ریمارکس دیےاور نہ ہی وہ ان کے سیاسی خیالات کو کوئی اہمیت دیتے ہیں۔بلکہ پادری جیرمی رائٹ سے انکا تعلق مذہبی رسومات کی ادائیگی کی حد تک رہا ہے۔
بارک اوباما کو بائیس مارچ کو ریاست پنسلوانیا کی پرائمری میں ہیلری کلنٹن سے سخت چیلنج کا سامنا ہےاور جب سے ان کے خلاف پادری جیرمی رائٹ کے متنازعہ بیان کی آڑ میں نسلی تعصب اور غیر حب الوطنی کا پروپیگنڈہ شروع ہوا ہے، باراک اوباما نے اس کے توڑ کے لیے اپنے حامیوں سے خطاب کا بنیادی موضوع امریکن ازم اور حب الوطنی کو بنا لیا ہے۔اور اب سٹیج کے پس منظر میں بارک اوباما کے حق میں بینرز آویزاں نہیں کئے جا رہے بلکہ پورا پس منظر امریکی قومی پرچموں پر مشتمل ہوتا ہے۔
دیکھنا یہ ہے کہ باراک اوباما کی جانب سے نسلی رواداری ، حب الوطنی اور سب سے پہلے امریکہ کا پیغام، باقی رہ جانے والی پرائمریوں
میں ان کے کام آتا ہے یا نہیں۔
![]() |
|
| پادری جیرمی رائٹ نے باراک اوباما کی شادی کروائی اور انکی بیٹی کو بپتسمہ دیا |
ایک خاتون نے کہا کہ ’مجھے یقین تھا کہ میں اوباما کے حق میں ہی ووٹ ڈالوں گی لیکن ان کی تقریر نے مجھے دوبارہ سوچنے پر مجبور کردیا ہے۔‘
کچھ لوگ اوباما کی اس وضاحت سے متفق تھے اور ان کا کہنا تھا کہ اپنے پادری سے لاتعلقی ظاہر کرنےکا یہ اقدام سیاسی طور پر درست ہے۔
جیرمی رائٹ کے بیان کے نتیجے میں پیدا ہونے والے تنازعے کے بارے میں چاہے لوگوں کی رائے کچھ بھی ہو لیکن باراک اوباما کو ایک نہ ایک دن اس حوالے سے اپنا موقف واضح کرنا ہی تھا کیونکہ امریکی قوم کو متحد کرنے کے ان کے دعویٰ پر حالیہ دنوں میں جیرمی کی حمایت کے بعد خاصی تنقید کی جا رہی تھی۔
ایلی نوئے کےسینیٹر پر یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ اہم ووٹرز کھونے کے ڈر سے عام طور پر مشکل فیصلوں سے گریز کرتے ہیں۔حالانکہ اس موقع پر انہوں نے ’صدارتی‘ کام کیا۔
آنے والے چند ہفتوں میں یہ بات واضح ہو جائے گی کہ اس اقدام نےان کےامریکہ کےاگلےصدر بننے کے چانسز پر کتنا اثر ڈالا ہے۔