Wednesday, 19 March, 2008, 03:02 GMT 08:02 PST
امریکہ میں مرکزی بینک کی طرف سے شرح سود میں کمی کے بعد امریکہ کے حصص بازار وال اسٹریٹ میں دیکھی جانے والی تیزی کے اثرات بدھ کو ایشیائی حصص بازاروں میں بھی نظر آ رہے ہیں۔
جاپان کے حصص بازار نکی میں انڈکس میں تین فیصد کا اضافہ ہوا جبکہ آسٹریلیا، تائیوان، اور جنوبی کوریا کے حصص بازاروں کے انڈکس میں بھی دو فیصد کا اضافہ ہوا۔
اس سے قبل گزشتہ روز منگل کو نیویارک کے حصص بازار ڈاؤ جون میں انڈکس میں حالیہ دنوں میں ہونے والا سارا خسارا پورا کرلیا جو ایک دن میں گزشتہ پانچ برسوں میں ہونے والا سب سے زیادہ اضافہ ہے۔
امریکہ کے مرکزی بینک نے شرح سود میں پونے ایک فیصد کی کمی کرے اس تین فیصد سے دو آعشاریہ دو پانچ فیصد کر دیا ہے۔
اکثر اقتصادی ماہرین کا خیال ہے کہ امریکی معیشت مندی کا شکار ہے۔ امریکی مرکزی بینک نے یہ سخت اقدامات ایک امریکی بینک بیئر سٹنرز کی فروخت کے بعد پیدا ہونے والے بحران سے بچنے کے لیے کیئے ہیں۔
امریکہ کے وزیر خزانہ ہینری پالسن نے منگل کو اعتراف کیا تھا کہ معیشت کو شدید خسارے کا سامنا ہے تاہم انہوں نے امید ظاہر کی تھی کہ یہ مندی اس سال کے آخر تک ختم ہو جائے گی۔
امریکی مرکزی بینک نے گزشتہ ستمبر سے چھ مرتبہ شرح سود میں مجبوراً کمی کی ہے اور اس کی وجہ مکانات کی خریداری کے لیے بینکوں کی طرف سے دیئے جانے والے قرضوں سے پیدا ہونے والے مالی بحران ہے۔
نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ کے حصص بازاروں میں دیکھے جانے والی تیزی کا مطلب یہ نہیں کہ امریکہ میں مالی بحران ختم ہوگیا ہے۔ تاہم خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ تیزی امریکی مرکزی بینک کی طرف سے لیے جانے والا اقدامات پر سرمایہ کاروں کے اعتماد کو ظاہر کرتی ہے۔