Tuesday, 18 March, 2008, 00:55 GMT 05:55 PST
عراقی محکمۂ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کے لیے مقدس شہر کربلا میں ایک خاتون خود کش بمبار کے حملے میں کم از کم باون افراد کو ہلاک اور اٹھاون کو زخمی ہوئے ہیں۔
عینی شاہدوں کا کہنا ہے کہ دھماکہ امام حسین کے روضے کے قریب ایک کیفے میں ہوا اور دھماکے کے نتیجے میں لاشیں سڑک پردور دور تک بکھر گئیں۔
حکام کے مطابق یہ دھماکہ ایک خاتون نے کیا ہے جو دھماکہ خیز مواد والی جیکٹ پہنے ہوئی تھی۔ اس خاتون نے امام حسین کے روضے کے قریب ہی اپنے آپ کو اڑا لیا۔ ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تعداد شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے افراد کی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں سات ایرانی بھی شامل ہیں۔
اس سے پہلے بھی اس مقدس شہر کو ہولناک بموں کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے اور گزشتہ اپریل میں ہونے والے دو بم دھماکوں کے دوران سو افراد ہلاک ہوئے تھے۔
حکام اس دھماکے کی ذمہ داری کا شک القاعدہ کے سرکشوں پر کر رہے ہیں لیکن ابھی تک کسی نے اس کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔
اس دوران عراق کے دارالحکومت بغداد کے ایک فٹبال گراؤنڈ میں نامعلوم سرکشوں کے ایک دھماکے میں پانچ افراد ہلاک اور سات زخمی ہوئے تھے۔
اس کے علاوہ بغداد میں اور نواح کے دیگر واقعات میں دو عراقی شہری اور دو امریکی فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔
یاد رہے کہ گزشتہ پانچ برس میں عراق میں ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کی تعداد اب چار ہزار سے بھی تجاوز کرچکی ہے۔
یہ دھماکے اور ہلاکتیں اس وقت ہوئی ہیں جب امریکہ کے نائب صدر ڈک چینی عراق کے سرکاری دورے پر پہنچے ہیں۔
ڈک چینی کے مطابق حالیہ مہینوں میں عراق میں سلامتی کی صورتحال بہت بہتر ہوئی ہے۔ مبصرین کے مطابق ان کا یہ بیان دراصل گزشتہ برس امریکی فوجیوں کی تعداد میں بڑے اضافے کے مثبت اثرات کی جانب توجہ دلانے کی کوشش ہے۔