Tuesday, 18 March, 2008, 13:18 GMT 18:18 PST
امریکہ کی ڈیموکریٹک پارٹی نے ریاست فلوریڈا میں صدارتی امیدوار کے چناؤ کے لیے دوبارہ پرائمری انتخاب کے انعقاد کا فیصلہ ترک کر دیا ہے۔
اس سے قبل فلوریڈا میں ڈیموکریٹس نے نتائج کے متنازعہ کہلائے جانے کے بعد پوسٹل ووٹ کےذریعےدوبارہ انتخاب کرانےکا منصوبہ بنایا تھا۔
صدارتی نامزدگی کے لیے امیدوار ہیلری کلنٹن نے جنوری میں فلوریڈا میں واضح برتری حاصل کر لی تھی اور اصولی طور پر کافی مندوبین جیت لیے تھے۔تاہم اس کامیابی کی زیادہ اہمیت نہیں تھے کیونکہ ڈیموکریٹک پارٹی کے کنوینشن میں فلوریڈا سے کسی مندوب کے بھیجے جانے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔
ڈیموکریٹک نیشنل کنوینشن کی فلوریڈا کے مندوبین پر پابندی کی وجہ بغیر اجازت کے یہاں وقت سے پہلے پرائرمری انتخاب کروانا تھا۔
پارٹی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وہ دوبارہ انتخاب کی تجویز سے خاصے پریشان تھے۔
اس کی وجہ یہ تھی کہ ہیلری کلنٹن اور ان کے حریف باراک اوبامہ میں سخت مقابلہ جاری تھا اور فلوریڈا کے نتائج پارٹی کے صدارتی امیدوار
کے لیے حتمی نتائج مرتب کرنے میں نہایت اہمیت کے حامل ہو سکتے تھے۔
باراک اوباما کے حمایتی دوبارہ انتخاب کے خلاف تھے۔ اوباما نےفلوریڈا میں انتہائی کم وقت میں پوسٹل ووٹ کے ذریعے دوبارہ انتخاب کے شفاف ہونے پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا تھا۔لیکن ان کا کہنا تھا کہ ان کی مہم ’ڈیموکریٹک نیشنل کنوینشن کے ہر فیصلے پر عمل کرے گی۔‘
ہیلری کلنٹن نے مطالبہ کیا ہے کہ یا تو پرائمری میں ووٹنگ دوبارہ کرائی جائے یا جنوری کےنتائج کو تسلیم کر لیا جائے۔لیکن ڈیموکریٹک نیشنل کنوینشن کا کہنا ہے کہ دوبارہ انتخاب کے فیصلے پر اس وقت تک عمل نہیں ہو سکتا جب تک کہ دونوں امیدوار یعنی باراک اوباما اور ہیلری کلنٹن اس فیصلے کو قبول نہیں کر لیتے۔
ڈیموکریٹک پارٹی اس اندرونی جھگڑے کو ختم کرنے کے لیے کوئی مستقل حل ڈھونڈنا چاہتی تھی تاکہ نومبر میں ہونے والے عام انتخابات میں اپنی حریف پارٹی کے متوقع امیدوار جان مکین کے مقابلہ بھر پور طریقے سے کیا جاسکے۔