Monday, 17 March, 2008, 19:10 GMT 00:10 PST
عراقی محکمۂ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کے لیے مقدس شہر کربلا میں ایک خاتون خود کش بمبار کے حملے میں کم از کم بیالیس افراد کو ہلاک اور اٹھاون کو زخمی ہوئے ہیں۔
عینی شاہدوں کا کہنا ہے کہ دھماکہ امام حسین کے روضہ کے قریب ایک کیفے میں ہوا اور دھماکے کے نتیجے میں لاشیں سڑک پردور دور تک بکھر گئیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں سات ایرانی بھی شامل ہیں۔
اس سے پہلے بھی اس مقدس شہر کو ہوناک بموں کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے اور گزشتہ اپریل میں ہونے والے دو بم دھماکوں کے دوران سو افراد ہلاک ہوئے تھے۔
حکام اس دھماکے کی ذمہ داری کا شک القاعدہ کے سرکشوں پر کر رہے ہیں لیکن اب کسی نے بھی اس کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔
اس دوران عراق کے دارالحکومت بغداد کے ایک فٹبال گراؤنڈ نامعلوم سرکشوں کے ایک دھماکے میں پانچ افراد ہلاک اور سات زخمی ہوئے تھے۔
اس کے علاوہ بغداد میں اور نواح کے دیگر واقعات میں دو عراقی شہری اور دو امریکی فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔
یہ دھماکے اور ہلاکتیں اس وقت ہوئی ہیں جب امریکہ کے نائب صدر ڈک چینی عراق کے سرکاری دورے پر پہنچے ہیں۔