Sunday, 16 March, 2008, 16:27 GMT 21:27 PST
دنیا بھر سے انسدادِ دہشت گردی کے ماہرین گزشتہ ہفتے ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے سٹاک ہوم میں جمع ہوئے۔ بی بی سی کے لیے ’اسلامی امور کے ماہر‘ راجر ہارڈی کو کانفرنس میں امید پرستی کی قلت کا احساس ہوا۔
راجر ہارڈی لکھتے ہیں: کانفرنس کی ابتداء یوں ہوئی کہ ہم سٹاک ہوم کے مشہور کنارِ آب کے سامنے ان لوگوں کی یاد میں خاموشی اختیار کیے کھڑے تھے جو دو ہزار چار میں میڈرڈ میں ٹرین پر ہونے والے بم حملوں کا نشانہ بنے۔
یہ ایک علامتی اظہار تھا اور اس کی ضرورت بھی تھی کیونکہ ہم سویڈن کے دارالحکومت میں اپنے وقت کے سب سے اہم اور دشوار ترین مسئلے پر بحث کے لیے جمع ہوئے تھے۔
شرکاء موضوع کو ہر زاویۂ نظر سے دیکھنے والوں پر مشتمل تھے۔ ان میں سینئر فوجی، پولیس والے، خفیہ اطلاعات جمع کرنے کے ماہر، سفارتکار،
فکری دور اندیشی کا کام کرنے والے، کچھ صحافی اور ایسے سیلز مین بھی تھے جو ان جدید آلات کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کا موقع
دیکھ رہے تھے جو ہمیں خطرات سے دوچار اس دنیا میں تحفظ کا احساس دلانے کے ضرورت کو پیش نظر تیار کیے گئے ہوں گے۔
|
’چاقو سے شوربا پینا‘
|
وہ تو بہر طور اس بات کو زیادہ بہتر طور پر جانتے تھے کیونکہ انہوں پہلی جنگِ عظیم کے دوران ترکوں کے خلاف اس عرب سرکشی کی قیادت کی تھی جسے کہیں زیادہ رومانی بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ سو یہ سرکشیاں کوئی نئی نہیں ہیں۔
کانفرنس کے دوران مندوبین کو چھٹی دھائی کی فلم ’بیٹل آف الجئرز‘ بھی دکھائی گئی جس سے یہ سبق بھی سیکھا جا سکتا ہے کہ ایک مغربی ملک چاہے وہ انتہائی طاقتور ہو اور چاہے شدید ترین تشدد پر آمادہ، آخرِ کار پُر عزم اور مقبول مزاحمت پر مشتمل سرکشی کو کچلنے میں ناکام ہو جاتا ہے۔
اب مغرب اور اس کے اتحادی ماضی کی سرکشیوں سے ایک ایسا گُر سیکھنے کے لیے سرگرداں ہیں جسے درپیش ایک نئی طرح کی جنگ سے نمٹنے کے لیے آزمایا جا سکے۔
اگرچہ موجودہ لڑائی کی تشریح دشوار ہے لیکن امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے اسے ’دہشت گردی سے جنگ‘ قرار دیا ہے۔ کچھ دوسروں کی ترجیح اسے ’عالمی سرکشی‘ قرار دینا ہے۔ جب کہ کچھ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ اصطلاح بھی یکسر درست نہیں ہے۔
بہر طور اسے جو بھی قرار دیا جائے وہ لوگ جو اس سے نبرد آزما ہیں ان کے لیے تو یہ ایک مخمصوں کا پلندہ ہے۔
اس پر مزید یہ کہ یہ لڑائی صرف جنگ کے میدانوں ہی میں نہیں دماغوں میں بھی جاری ہے۔
|
مسلم رائے عامہ کے لیے حریف
|
تو دلوں اور دماغوں کے لیے جاری اس جنگ میں آپ ان مسلمانوں کو کیسے تحفظ دیں گے جو قانون پسند ہیں جب کہ آپ انہیں تو پکڑ دھکڑ یا ہلاک کر رہے ہوں جنہیں آپ ان میں سے تشدد پر تُلے سمجھتے ہیں۔
اور کیا آپ کو یقین ہے کہ آپ ان دو طرح کے مسلمانوں میں واقعی فرق کر سکیں گے۔
دفاع کے ایک برطانوی ماہر کا کہنا ہے ہے کہ ’ہم گھاس کے گٹھے میں سوئی تلاش نہیں کر رہے ہم تو اس گٹھے میں صرف ایک تنکا تلاش کر رہے ہیں‘۔
اب ہر ایک کو اپنے روایتی کردار کا از سرِ نو تعین کرنا ہو گا۔
فوجی اب محض جنگجو ہی نہیں ہیں قوم ساز بھی ہیں۔
پولیس والوں کا کو لازماً مساجد میں جانا ہو گا اور وہاں جا کر یہ بتانا ہو گا کہ وہ مسلمانوں کے مشکوک تصور کیے جانے والے اجتماعات کے ساتھ کیا کرنے کے ارادے رکھتے ہیں۔
انٹیلیجنس کے لوگ ایسے دشمن کے دماغ میں داخل ہونا چاہتے ہیں جس کے بارے میں ان کی سجھ بوجھ انتہائی سرسری ہے۔
|
انٹیلیجنس والوں کی مشکلات
|
یہ بات تو واضح ہے کہ نہ صرف ان امریکیوں میں بھی اس مسئلے سے نمٹنے کے طریقۂ کار پر نمایاں اختلافات ہیں جو دہشت گردی کو جنگ ہی کی ایک شکل سمجھتے ہیں بلکہ ان یورپیوں میں بھی ہیں جن کے نزدیک دہشت گردی جرم کی ایک نوعیت ہے۔
اور جیسا کہ کانفرنس نے واضح کر دیا، یورپی اِس بارے میں یکساں سوچ اختیار کرنے سے کوسوں دور ہیں کہ مسلم انتہا پسندی پر ان کی حکومتوں اور معاشروں کس طرح کے ردِ عمل کا اظہار کرنا چاہیے۔
ایک مسئلہ سماجی تقسیم کے خوف کی مسلسل موجودگی ہے۔
پیغمبرِ اسلام پر بنائے جانے والے ڈنمارک کے کارٹونوں نے یورپ میں مسلمانوں اور غیر مسلمانوں کے درمیان سوچ کے قطبینی فرق کو مقابل و متحارب کیا تھا اور اب خوف یہ ہے کہ دائیں بازو کے ولندیزی سیاستداں کی قرآن کے بارے میں بنائی جانے والی فلم بھی یہی کام دکھائے گی۔
میں اعتراف کرتا ہوں کہ میں کانفرنس میں موجود ان سیلز مینوں کے مقابل خود کو تکنیکی طور کمزور محسوس کر رہا تھا جن کے لیے کانفرنس
بنیادی طور پر مارکیٹنگ کا ایک موقع تھی۔
|
اصل مقصد پر یاسیت و مایوسی
|
اور اگر آپ بھی میری طرح اس بارے میں انٹرنیٹ کے ذریعے کچھ تلاش کرنے کی کوشش کریں گے تو ہو سکتا ہے کہ آپ بھی زیادہ دانشور بننے میں کامیاب نہ ہوں۔
تین دن تک جاری رہنے والے بحث مباحثے کے دوران جو چیز مجھے سب سے زیادہ محسوس ہوئی وہ اصل مقصد کے سلسلے میں پائی جانے والی یاسیت پسندی یا مایوسی تھی۔
البتہ کچھ پہلو ایسے بھی تھے جن سے کچھ سیکھا جا سکتا ہے۔
اب اس بات کو واضح طور پر تسلیم کیا جاتا ہے کہ مسلمانوں کے دل و دماغ بھی اہمیت کے حامل ہیں اور یہ کہ اگر نظریات کی جنگ میں شکست ہو جائے گی تو فوجی کامیابیوں کی معنی کچھ زیادہ نہیں رہیں گے۔
لیکن اب بھی مسافت خاصی طویل ہے یعنی ’ہنوز دلی دور است‘۔
یہ بات مجھے تب زیادہ محسوس ہوئی جب میری ایک ایسے امریکی فوجی بات ہوئی جس نے ’یو ایس کاؤنٹر انسرجنسی مینؤل‘ یا انسدادِ سرکشی کا امریکی ہدایت نامے کی تیاری میں مددگار کے طور پر کام کیا تھا۔
میں نے ان سے پوچھا کہ ان کے خیال میں یہ ’طویل جنگ‘ (جیسا کے اب بہت سے لوگ اس جنگ کے بارے میں کہتے ہیں) اور کتنے عرصے جاری
رہے گی؟
|
تیس سال نہیں تو سو سال
|
لیکن انہوں یہ کر دکھایا۔ انہوں نے انتہائی مختصر جواب دیا: ’اگر ہم نے (اس جنگ کو) ٹھیک سے چلایا تو تیس سال۔ اور اگر ٹھیک سے نہ چلایا تو سو سال‘۔