http://bbc.com.im/urdu/

Saturday, 15 March, 2008, 13:45 GMT 18:45 PST

ترک وزیراعظم: تجویز پر تنقید

ترکی کے وزیر اعظم طیب اردگان نےاس تجویز پر سخت تنقید کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ عوامی خواہشات کے برعکس اقدامات اختیار کرنے پران کی جماعت پر پابندی لگائی جائے۔

ان کی یہ تنقید، ملک کی آئینی عدالت میں وکیل استغاثہ کےان کی پارٹی جسٹس اینڈ ڈیویلپمنٹ پر رجعت پسندی کا الزام لگاتے ہوئے اس پر پابندی عائد کرنے کے مطالبے کے بعد سامنے آئی ہے۔

واضح رہے کہ ترکی کا سیکولر آئین حکومت کے کسی بھی اقدام پر مذہبی اثرات کی نفی کرتا ہے۔

جبکہ اس مقدمے میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ حکمران جماعت ترکی کے سیکولر نظام کے لیے سنگین خطرہ بن گئی ہے۔

وکیل استغاثہ عبدالرحمٰن یالچنکایا نے مقدمے میں کہا ہے کہ حکمران جسٹس اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹی یا جماعت برائے عدل و ترقی کی سرگرمیاں ملک میں سیکولرزم کی مخالفت کا محور بن گئی ہیں۔

جمعہ کی شام کیے گئے ایک حیران کن اعلان میں وکیل استغاثہ نے کہا کہ حکمران جماعت کی سرگرمیاں چھ ماہ سے زیرتفتیش تھیں۔

ترکی میں اسلام پسندوں اور ملک کی شدید سیکولر اسٹیبلشمنٹ کے درمیان کشیدگی کوئی نئی بات نہیں ہے۔ صدرعبداللہ گل اور وزیراعظم اردوگان دونوں ہی ملک کی پچھلی دو اسلام پسند جماعتوں کے سرکردہ رہنماؤں میں سے رہے ہیں۔ دونوں جماعتوں پر سن نوے کی دہائی میں انہیں سیکولر ترکی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے پابندی عائد کردی گئی تھی۔ دونوں رہنماؤں نے اپنی سیاست کی خاطر جیل کی ہوا بھی کھائی ہے۔

لیکن اس مرتبہ آئینی عدالت کے سامنے یہ مطالبہ ایسے وقت کیا گیا ہے جب پچھلے ہی برس رجب طیب اردوگان کی حکومت بھاری اکثریت سے دوبارہ منتخب ہوئی ہے جس کے بعد عبداللہ گل بھی عہدۂ صدارت پر منتخب ہوئے تھے۔

ان حالات میں مبصرین یہ بھی خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ اس طرح کے قانونی چیلنج سے ملک کے لیے سیاسی عدم استحکام کا بھی شدید خطرہ ہے۔

خود حکمران جماعت نے خبردار کیا ہے کہ اس کا کوئی اسلامی ایجنڈا نہیں ہے اور مقدمے کا اصل ہدف ترک جمہوریت ہے ناکہ جسٹس اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹی۔