Saturday, 15 March, 2008, 02:38 GMT 07:38 PST
ترکی میں ملک کی آئینی عدالت کے وکیل استغاثہ نے ایک مقدمے کے ذریعے عدالت حکمران جسٹس اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹی پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
مقدمے میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ حکمران جماعت ترکی کے سیکولر نظام کے لیے سنگین خطرہ بن گئی ہے۔
وکیل استغاثہ عبدالرحمٰن یالچنکایا نے مقدمے میں کہا ہے کہ حکمران جسٹس اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹی یا جماعت برائے عدل و ترقی کی سرگرمیاں ملک میں سیکولرزم کی مخالفت کا محور بن گئی ہیں۔
جمعے کی شام کیے گئے ایک حیران کن اعلان میں وکیل استغاثہ نے کہا کہ حکمران جماعت کی سرگرمیاں چھ ماہ سے زیرتفتیش تھیں۔
ترکی میں اسلام پسندوں اور ملک کی شدید سیکولر اسٹیبلشمنٹ کے درمیان کشیدگی کوئی نئی بات نہیں ہے۔ صدرعبداللہ گل اور وزیراعظم اردوگان دونوں ہی ملک کی پچھلی دو اسلام پسند جماعتوں کے سرکردہ رہنماؤں میں سے رہے ہیں۔ دونوں جماعتوں پر سن نوے کی دہائی میں انہیں سیکولر ترکی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے پابندی عائد کردی گئی تھی۔ دونوں رہنماؤں نے اپنی سیاست کی خاطر جیل کی ہوا بھی کھائی ہے۔
لیکن اس مرتبہ آئینی عدالت کے سامنے یہ مطالبہ ایسے وقت کیا گیا ہے جب پچھلے ہی برس رجب طیب اردوگان کی حکومت بھاری اکثریت سے دوبارہ منتخب ہوئی ہے جس کے بعد عبداللہ گل بھی عہدۂ صدارت پر منتخب ہوئے تھے۔
ان حالات میں مبصرین یہ بھی خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ اس طرح کے قانونی چیلنج سے ملک کے لیے سیاسی عدم استحکام کا بھی شدید خطرہ ہے۔
خود حکمران جماعت نے خبردار کیا ہے کہ اس کا کوئی اسلامی ایجنڈا نہیں ہے اور مقدمے کا اصل ہدف ترک جمہوریت ہے ناکہ جسٹس اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹی۔