Friday, 14 March, 2008, 03:39 GMT 08:39 PST
فلسطینی صدر محمود عباس نے اسرائیل پر مشرقی یروشلم میں فلسطینوں کے نسلی صفایا کی مہم شروع کر رکھنے کا الزام عائد کیا ہے۔
محمود عباس کا کہنا تھا کہ ٹیکس اور مکانات کے لیے اجازت پر عائد پابندیوں کی وجہ سے فلسطینی گھروں کی تعمیر نہیں کر سکتے۔
اسرائیل نے فلسطینی صدر کے اس بیان کو اشتعال انگیز قرار دیا ہے۔
ادھر اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے بھی اسرائیل و فلسطین سے شہریوں کے خلاف حملے اور تشدد بند کرنے کا مطالبہ کیا۔ اسلامی ممالک کی تنظیم کے اجلاس میں اسلام کے بارے میں عالمی طور پر منفی سوچ بدلنے پر بھی زور دیا گیا۔
فلسطینی صدر نے اسرائیل کے خلاف یہ بیان سینیگال میں ہونے والے اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی کے اس افتتاحی اجلاس کے دوران دیا جس کا مقصد افریقہ اور ایشیا میں غربت کے خاتمے کے بارے میں غور کرنا تھا۔
فلسطینی صدر نے کہا کہ اسرائیل نے مشرقی یروشلم میں فلسطینیوں کی نسل کُشی کی مہم چلا رکھی ہے جہاں محصولات اور منصوبہ بندی نے فلسطینیوں کو مکان بنانے سے معذور کر دیا ہے اور وہ غرب اردن کے فلسطینی علاقوں سے کٹ کر رہ گئے ہیں۔
او آئی سی کے اس اجلاس میں عرب دنیا کے تیس سے زیادہ مسلمان مملک کے سربراہان موجود تھے۔ اس اجلاس میں اسرائیل کی مشرقِ وسطیٰ پر پالیسی کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی اور زور دیا گیا کہ اسرائیل کے خلاف عالمی عدالت میں مقدمہ چلایا جائے۔
اجلاس میں تنظیم کے سیکریٹری جنرل اکمل الدین احسان اوگلو نے اسلامو فوبیا کا ذکر کیا جس کے بارے میں گروپ نے کہا کہ اسلامی دنیا کے لیے خطرہ ہے۔
احسان اوگلو کا کہنا تھا: ’ایسا نظر آتا ہے کہ مغرب میں اسلامو فوبیا کی وجوہات میں مغرب میں کچھ لوگوں کی اسلام اور تاریخی اختلافات کے باری میں کم علمی کے ساتھ ساتھ ہماری اصل اسلامی اقدار کو عام لوگوں تک پہنچانے میں نا اہلی بھی شامل ہے۔‘
اسلامی دنیا میں امریکی پالیسی کافی غیر مقبول ہے لیکن صدر بش کا موقف ہے کہ امریکہ کو صحیح انداز میں سمجھا نہیں جا رہا۔ اس وجہ سے انہوں نے پہلی مرتبہ اس کانفرنس میں امریکی نمائندگی کے لیے ٹیکساس کی ایک کاروباری شخصیت کو بھیجا جو پاکستانی نژاد مسلمان ہیں۔
صدا کمبرا نے کہا کہ کانفرنس میں ان کی خاصی پذیرائی کی گئی ہے اور وہ اس پیغام کے ساتھ آئے ہیں کہ صدر بش روابط رکھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
ماضی میں او آئی سی پر تنقید ہوتی رہی ہے کہ یہاں سوائے زبانی جمع خرچ کے کچھ نہیں ہوتا لیکن اس مرتبہ سینیگال کے حکام کو امید ہے کہ اس کانفرنس کی مدد سے غربت کے خاتمے کے لیے صحیح معنوں میں کوششیں شروع ہو سکیں گی۔