Friday, 14 March, 2008, 04:24 GMT 09:24 PST
امریکہ میں ڈیموکریٹ پارٹی نے ریاست فلوریڈا میں اپنا صدارتی امیدوار نامزد کرنے کے لئے پرائمری الیکشن دوبارہ کروانے کی تجویز پیش کی ہے۔
اس تجویز کے پس منظر میں ووٹوں کی گنتی کا تنازعہ ہے۔ اگر یہ تجویز منظور ہوجاتی ہے تو فلوریڈا کے ڈیموکریٹ ووٹ دہندگان بذات خود یا ڈاک کے ذریعے تین جون تک ووٹ ڈال سکیں گے۔
اس سال جنوری میں ہلیری کنٹن نے اپنے مخالف امیدوار باراک اوبامہ کو یہاں بھاری اکثریت سے شکست دی تھی۔ لیکن یہاں انتخاب کا انعقاد ڈیموکریٹک پارٹی کے قومی قوانین کے تحت نہ ہونے کی وجہ سے اِن نتائج کو موخر کردیا گیا تھا۔
فلوریڈار اور مشیگن میں انہی وجوہات کی بنا پر وہ مندوبین ختم کر دیئے گئے تھے جنہوں نے اس سال اگست میں ہونے والے کنوینشن میں ہیلری کلنٹن یا باراک اوباما کے حق میں اپنی رائے کا اظہار کرنا ہے۔
اس مسئلے پر نئی تجویز بظاہر اس لیے سامنے آئی ہے کہ ڈیموکریٹ پارٹی کے دنوں امیدوار ہیلری کلنٹن اور باراک اوباما دونوں میں سے کوئی بھی صدارتی نامزدگی کی دوڑ میں واضح طور پر آگے نہیں نکل سکا۔
پارٹی چاہتی ہے کہ اس مسئلے کا کوئی حل نکل آئے تاکہ اس کے دونوں رہنماؤں میں سے کسی ایک کا انتخاب ہو سکے اور ڈیموکریٹ جماعت کے اندرونی اختلاف سے نقصان کا ازالہ کیا جا سکے۔
فلوریڈا میں ڈاک کے ذریعے ووٹنگ کا منصوبہ ڈیموکریٹ سینیٹ رہماؤں کی طرف سے پیش کیا جانا ہے لیکن خدشہ ہے کہ سٹیٹ ہاؤس میں خود ڈیموکریٹ ہی اس کی مخالفت کریں گے۔
ابھی تک باراک اوباما نے چھبیس ریاستوں میں کامیابی حاصل کی ہے اور ان کے حمایتی مندوبین کی تعداد ایک ہزار پانچ سو چھیانوے ہے۔
ان کے مقابلے میں ہیلری کلنٹن نے سولہ ریاستوں میں فتح پائی ہے اور ان کے مندوبین کی تعداد ایک ہزار چار سو چوراسی ہے۔
صدارتی نامزدگی حاصل کرنے میں کامیابی کے لیے کسی بھی امیدوار کو دو ہزار پچیس مندوبین درکار ہیں جو اگست میں ہونے والے کنویشن میں فیصلہ کن کردار ادا کریں گے۔