http://bbc.com.im/urdu/

Thursday, 13 March, 2008, 01:07 GMT 06:07 PST

ایران: رکنِ پارلیمان نے’غداری‘ کی

ایران میں انٹیلجنس کی وزارت نے ایک معروف اصلاح پسند رکنِ مجلس پر الزام لگایا ہے کہ انہوں نے امریکہ کے پیسے سے چلنے والے ایک ٹیلی وژن چینل سے گفتگو کر کے غداری کا ارتکاب کیا ہے۔

وزارت نے کہا ہے کہ وہ اس انٹرویو کے بارے میں تحقیقات کر رہی ہے جس میں رکنِ مجلس نورالدین پیر موذن نے امریکی ادارے ’وائس آف امیریکہ‘ کی فارسی سروس سے گفتگو کی تھی۔

نورالدین موذن نے اپنے انٹرویو میں جمعہ کو ایران میں پارلیمانی انتخاب کے حوالے سے سینکڑوں اصلاح پسندوں کے نا اہل قرار دیئے جانے پر تنقید کی تھی۔

خود پیر موذن کو بھی ان انتخابات میں شرکت سے نا اہل قرار دیا گیا ہے۔

انٹیلیجنس کے وزیر غلام حسین محسنی نے پیر موذن کے انٹرویو کی مذمت کی اور کہا کہ یہ ایک ’بہت برا کام اور یقیناً غداری ہے۔‘

ایران میں قانون کے تحت جو افراد ایسے عہدوں پر فائز ہوں وہ غیر ملکی خبر رساں اداروں کو انٹرو نہیں دے سکتے۔ ’وزارت یقیناً اس معاملے کی تحقیقات کرے گی اور اسے ہرگز نظر انداز نہ کرے گی۔‘

انٹرویو میں پیر موذن نے شورائے نگہبان کی طرف سے اصلاح پسند امیدواروں کی نا اہلی پر تنقید کی اور انتخابات کی اہمیت کو مشکوک قرار دیا تھا۔

ایران میں وائس آف امیریکہ اور دیگر غیر ملکی ٹی وی چینلز کو جو فارسی زبان میں سیٹلائٹ کے ذریعے نشریات دکھاتے ہیں، ایران کے خلاف پروپیگینڈہ کا ایک ذریعہ قرار دیا جاتا ہے۔