Wednesday, 12 March, 2008, 02:59 GMT 07:59 PST
امریکہ میں صدارتی انتخاب سے قبل ڈیموکریٹ پارٹی کی طرف سے نامزدگی کی دوڑ میں ریاست مِسی سِپی میں باراک اوباما نے ہیلری کلنٹن کو شکست دے دی ہے۔
باراک اوبامہ کو ریاست کے افریقی امریکن ووٹروں کی بہت بڑی تعداد نے بھاری اکثریت سے کامیاب کرایا۔
ریاست مِسی سِپی میں کل تینتیس مندوبین ہیں جو اگست میں ہونے والے کنوینشن میں ڈیموکریٹ پارٹی کی طرف سے صدارتی امیدوار کا حتمی فیصلہ کریں گے۔
دریں اثناء سینیٹر جان میکین جو پہلے ہی حکمراں ریپبلیکن پارٹی کی طرف سے صدارتی امیدوار سمجھے جا رہے ہیں، فنڈ جمع کرنے کی ملک
گیر مہم میں مصروف ہیں۔
![]() |
|
اپنی متوقع کامیابی پر شکاگو میں سی این این سے بات کرتے ہوئے باراک اوباما نے کہا یہ کہ مِسی سِپی کے ووٹروں کی طرف سے زبردست حمایت ہے۔
جب ان سے ہیلری کلنٹن کے کیمپ کے ساتھ بظاہر خراب ہوتے تعلقات کے بارے میں سوال پوچھا گیا تو باراک اوباما نے کہ وہ سمجھ بوجھ کے ساتھ نامزدگی حاصل کرنے کی مہم چلا رہے ہیں۔
’میں نے ہمیشہ احتیاط کے ساتھ یہ کہا ہے کہ سینٹر کلنٹن بہت با صلاحیت شخصیت ہیں اور اگر وہ نامزدگی کا یہ ملک گیر مقابلہ جیت گئیں تو ظاہر ہیں میں ان کی حمایت کروں گا‘۔
تاہم ان کا کہنا تھا: ’مجھے یقین نہیں کہ دوسرے کیمپ (ہیلری کلنٹن کیمپ) کی طرف سے بھی یہی انداز اپنایا جا رہا ہے۔‘
باراک حسین اوباما نے کہا کہ ہیلری کلنٹن کا یا خود ان کا نائب صدر کے عہدے پر نامزدگی کے بارے میں بات کرنا ابھی قبل از وقت ہے۔ اس سے پہلے وہ ہیلری کلنٹن کی اس پیشکش کو ٹھکرا چکے ہیں کہ باراک اوباما، ہیلری کے نائب کے طور پر انتخاب لڑیں۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق رائے عامہ کے جائزے ظاہر کرتے ہیں کہ ریاست مِسی سِپی میں ہر دس سیاہ فام ووٹروں میں سے نو نے باراک اوباما کو ووٹ ڈالا ہے۔
اس ریاست میں ہیلری کلنٹن کو سفید فام ووٹروں کی دو تہائی اکثریت نے ووٹ ڈالا۔