Sunday, 09 March, 2008, 23:58 GMT 04:58 PST
اسرائیلی وزیراعظم ایہود المرٹ نے غرب اردن میں مزید یہودیوں کی آبادکاری کے منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔
اسرائیلی حکومت کے مطابق علاقے میں فوری طور پر 250 نئے گھر تعمیر کیے جائیں گے جبکہ مجموعی طور پر تعمیر ہونے والے گھروں کی تعداد 750ہوگی۔
غرب اردن میں اس وقت بھی دو لاکھ اسی ہزار یہودی آباد ہیں۔ فلسطینی حکام نے اسے قیام امن کے عمل کو تباہ کرنے کی کوشش قرار دیتے ہوئے امریکہ سے مطالبہ کیاہے کہ وہ اسرائیلی حکومت کا فیصلہ تبدیل کرائے۔
ہاؤسنگ کے اسرائیلی وزیرنے ایک بیان میں آبادکاری کے اس منصوبے کی تصدیق کی ہے۔
فلسطینی مذاکرات کار صائب ارکات نے ایہود المرٹ کے اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہےکہ اس فیصلے سے فلسطینی انتظامیہ کی ساکھ بری طرح متاثر ہو رہی ہے اور اسرائیل کےاس اقدام سے قیام امن کےعمل اور اس کے لیے کی گئی بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچے گا اس لیے امریکی انتطامیہ اسرائیل سے یہ فیصلہ تبدیل کرائے۔
اسرائیلی ریڈیو کے مطابق نئے گھر بنانے کا فیصلہ مخلوط حکومت میں شامل ایک انتہائی قدامت پسند جماعت کے دباؤ کے بعد کیا گیا۔ اس جماعت نے حکومت سے الگ ہونے کی دھمکی دی تھی۔
چند روز قبل یروشلم میں جس یہودی مدرسے پر ایک فلسطینی کی طرف سے حملہ کیا گیا تھا اس کا تعلق بھی نئی یہودی بستیوں کی تعمیر کی حمایت کرنے والی ایک تحریک سے تھا۔