Friday, 07 March, 2008, 01:18 GMT 06:18 PST
عراق میں وسطی بغداد میں یکے بعد دیگرے ہونے والے دو بم دھماکوں میں کم از کم 54 لوگ ہلاک اور 150 سے زیادہ زخمی ہو گئے ہیں۔
دھماکے شہر کے وسط میں ایک بازار میں ہوئے جہاں لوگ جمعرات کی شام کو کاروبار کے لیے جمع ہوتے ہیں۔
پہلا دھماکہ سڑک کے کنارے ہوا اور جب لوگ زخمیوں کی مدد کو پہنچے تو دوسرا دھماکہ ہوا جس سے بہت زیادہ جانی نقصان ہوا۔
ہسپتال کے عملے کا کہنا ہے کہ زخمیوں اور ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تر نوجوان شامل ہیں۔
حسن عبداللہ نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا کہ وہ اپنی کپڑوں کی دکلان کے پاس کھڑے تھے کہ جب ان سے ایک سوپچاس میٹر کے فاصلے پر پہلا دھماکہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ وہ دھماکے کی جگہ کی طرف بڑھ رہے تھے کہ دوسرا دھماکہ ہوا اور ایک ہاتھ اور ایک ٹانگ ان کے قریب آ کر گری‘۔
عراق کی حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق فروری میں ہلاک ہونے والے عراقی شہریوں کی تعداد جنوری کے مقابلے میں ایک تہائی زیادہ ہے۔ ان اعداد و شمار سے ثابت ہوتا ہے کہ گزشتہ چھ مہینوں کے دوران ہلاکتوں کی تعداد میں کمی کا رجحان اب ختم ہو رہا ہے۔ ہلاکتوں میں کمی کی وجوہات عراق میں امریکی فوجیوں کی تعداد میں اضافہ، القاعدہ مخالف سنی ملیشیاؤں کا قیام اور مہدی آرمی کی کارروائیوں کی بندش بتائی جاتی تھیں۔