http://bbc.com.im/urdu/

Thursday, 06 March, 2008, 14:40 GMT 19:40 PST

یورپی یونین سے مذاکرات مسترد

ایران کے صدر محمد احمدی نژاد نے اپنے ملک کے جوہری پروگرام پر یورپی یونین سے کسی بھی قسم کے نئے مذاکرات کو مسترد کر دیا ہے۔

صدر احمدی نژاد کا کہنا تھا کہ اب تہران اس معاملے پر کوئی بھی بات چیت صرف اقوام متحدہ کے جوہری توانائی کے عالمی ادارے آئی اے ای اے سے ہی کرے گا۔

ادھر یورپی یونین کے رکن ممالک برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے کہا ہے کہ ماضی میں آئی اے ای اے سے ایران کے مذاکرات کا ریکارڈ مایوس کن رہا ہے۔

اس سلسلے میں آئی اے ای اے کو لکھے گئے خط میں یورپی یونین نے آئی اے ای اے کے بورڈ آف گورنرز سے کہا گیا ہے کہ وہ ایران سے کہیں کہ وہ یورینیم کی افزودگی کا پروگرام فوری طور پر معطل کرے۔

سوموار کو دنیا کی بڑی طاقتوں نے ایران پر نئی پابندیاں لگانے کے بعد ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مزید مذاکرات یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے چیف حاویے سولانا سے کرے۔

لیکن احمدی نژاد کا کہنا ہے کہ وہ صرف جوہری توانائی کے عالمی ادارے آئی اے ای اے سے ہی مذاکرات کریں گے۔

فارس نیوز ایجنسی نے احمدی نژاد کے حوالے سے کہا ہے کہ ’اس معاملے میں کہ مذاکرات کے لیے سولانا کو انچارج مقرر کیا گیا ہے، میں اس بات پر زور دوں گا کہ ہم آئی اے ای اے کے دائرۂ عمل سے باہر کسی بھی فرد یا ادارے سے مذاکرات نہیں کریں گے،۔

تاہم برطانیہ ،فرانس اور جرمنی نے ایران پر تعاون نہ کرنے کا الزام لگایا ہے۔

صرف آئی اے ای اے کا دائرۂ عمل
 اس معاملے میں کہ مذاکرات کے لیے سولانا کو انچارج مقرر کیا گیا ہے، میں اس بات پر زور دوں گا کہ ہم آئی اے ای اے کے دائرۂ عمل سے باہر کسی بھی فرد یا ادارے سے مذاکرات نہیں کریں گے
 
صدر احمدی نژاد

آئی اے ای اے کو لکھے گئے خط میں کڑے الفاظ کے ساتھ یہ مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ مبینہ جوہری ہتھیار بنانے کے حوالے اب تک کی سرگرمیوں کے بارے میں ایجنسی کے سوالوں پر ایران کا ردِ عمل ناقابل اطمینان اور مایوس کن رہا ہے۔

آئی اے ای اے میں برطانوی سفیر سائمن سمتھ نے خبردار کیا ہے کہ ’جب تک ایران عدم تعاون کے انتخاب پر کاربند رہتا ہے ہم بھی اپنے اس عزم پر قائم رہیں گے وہ اس انتخاب کی قیمت ادا کرے اور نتائج بھگتے‘۔

ادھر آئی اے ای اے میں ایرانی سفیر علی اصغر سلطانیہ نے کہا ہے کہ سیاسی بنیادوں پر لگائے جانے والے یہ الزام بے کار اور من گھڑت ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ایران نے اپنے جوہری پروگرام کے بارے میں ہر اہم سوال کا اطمینان بخش جواب دیا ہے اور جوہری توانائی کے عالمی ادارے سے ہر سطح پر تعاون کر رہا ہے۔