Sunday, 02 March, 2008, 10:29 GMT 15:29 PST
امریکہ میں صدارتی انتخاب میں ڈیموکریٹ پارٹی کی طرف سے نامزدگی کی دوڑ میں شامل ہیلری کلنٹن اور باراک اوبامہ کے درمیان منگل کو اوہائیو اور ٹیکساس میں فتح کے لیے شدت سے انتخابی مہم جاری ہے۔
ان دونوں ریاستوں میں فتح ہیلری کلنٹن کے لیے بہت ہی اہم تصور کی جا رہی ہے۔ امریکہ میں مبصرین کہتے ہیں کہ ہیلری کلنٹن کی نامزدگی کی دوڑ میں رہنے کا دارو مدار اب ان دنوں ریاستوں میں فتح پر ہے۔
ہیلری کلنٹن کے حریف باراک اوباما گزشتہ گیارہ پرائمری مقابلوں میں مسلسل جیت چکے ہیں۔
جمعہ کو ہیلری کلنٹن کے کیمپ نے ٹیلی وژن پر اشتہاری مہم میں باراک اوباما کے بارے میں کچھ سوالات اٹھائے جس کے جواب میں باراک اوبام کی طرف سے بھی فوری جواب دیا گیا۔
تاہم باراک اوباما کی طرف سے اس اشتہاری مہم کے جواب میں کہا گیا کہ نیویارک سے منتخب ہونے والی سینیٹر یعنی ہیلری کلنٹن کی ذہنی صلاحیتیں تو اسی وقت مشکوک ہوگئی تھیں جب انہوں نے عراق کے خلاف امریکی جنگ کی حمایت میں ووٹ دیا تھا۔
ادھر حکمراں ریپیبلیکن پارٹی کی طرف سے سینیٹر جان میکین جوصدارتی نامزدگی حاصل کرنے کی ریس میں اپنے حریفوں میں سب سے آگے ہیں،
اس امید کا اظہار کر رہے ہیں کہ وہ اتنے مندوبین کی حمایت حاصل کر لیں گے کہ انہیں پارٹی رسمی طور پر نامزد کر دے۔
ڈیموکریٹ پارٹی کے دونوں امیدواروں نے سنیچر کو بھی اپنی اپنی تقریروں میں ایک دوسرے پر نکتہ چینی کی اور باراک اوباما نے اپنے
حمایتیوں کو بتایا کہ ہیلری کلنٹن کا یہ کہنا کہ وہ سیاسی تبدیلی لائیں گی محض ایک دعویٰ ہی ہے۔
باراک اوباما نے کہا ’تبدیلی یہ نہیں کہ عراق پر حملے کے لیے آپ جارج بش کو ووٹ دیں‘۔
ہیلری کلنٹن نے باراک اوباما کی ’خارجہ پالیسی کی کمزوریوں‘ کو نشانہ بنایا اور کہا کہ ’ہمیں ایسا صدر چاہیے جو عمل پر یقینی رکھتا ہو، جو لڑ سکتا ہوں جو ایک چیمپئن ہو۔‘
نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ہیلری کلنٹن کو اوہائیو اور ٹیکساس دونوں ریاستوں میں مندوبین کی اکثریت کی ضرورت ہے تاکہ وہ اس ریس میں شامل رہ سکیں۔
اس وقت باراک اوباما کو ٹیکساس میں اپنی حریف پر چھ پوائنٹ کی برتری حاصل ہے جبکہ ریاست اوہائیو میں دونوں برابر ہیں۔