Saturday, 01 March, 2008, 04:23 GMT 09:23 PST
برلن کی ایک آرٹ گیلری نے مسلمانوں کے احتجاج پر ایک نمائش کو عارضی طور پر معطل کر دیا ہے جس میں شامل ایک پوسٹر میں مسلمانوں کے سب سے مقدس مقام خانۂ کعبہ کی بے حرمتی کی گئی تھی۔
نمائش میں شامل ایک پوسٹر پر کعبے کی تصویر کے اوپر نازیبہ الفاظ لکھے گئے تھے۔ کہا جا رہا ہے کہ نمائش معطل کرنے کا فیصلہ مسلمانوں کی دھمکیوں کے بعد کیا گیا۔
یہ نمائش ڈنمارک کے ایک گروپ ’سرینڈ‘ نے لگائی تھی جس کا کہنا ہے کہ وہ ہر طرح کی مذہبی انتہا پسندی کے خلاف ہے۔
اس پوسٹر میں یہودی سازشوں کے نظریے کا بھی مذاق اڑایا گیا تھا۔
ڈنمارک کے آرٹسٹوں کا کہنا ہے کہ وہ اس ’سازش کے نظریے‘ پر بھی طنز کرنا چاہتے تھے کہ ہر چیز کے پیچھے یہودیوں کا ہاتھ ہے۔ ان کے مطابق یہ نازی خیالات کو ماننے والوں اور عرب دنیا میں یہ خیال عام ہے۔
برلن میں آرٹ گیلری کے ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ دھمکیاں دی گئی تھیں کہ اگر پوسٹرر نہ اتارا گیا تو تشدد ہو سکتا ہے۔
سرینڈ گروپ کا کہنا ہے کہ اس کا مشن ہے کہ وہ دنیا کے طاقتور ترین افراد اور بقول ان کے نامعقول نظریاتی تنازعات کا مذاق اڑایا جائے اور وہ اس مقصد کے لیے سٹیکرز، پوسٹرز اور اشتہارات کا سہارا لیتے ہیں۔
یاد رہے کہ حال ہی میں ڈنمارک میں اخبارات نے پیغمبرِ اسلام کے ان متنازعہ کارٹونوں میں سے ایک کارٹون دوبارہ شائع کیا تھا جس کی وجہ سے سنہ 2005 میں مسلم دنیا میں پرتشدد مظاہرے ہوئے تھے۔
ان اخبارات کی جانب سے یہ کارٹون ایک کارٹونسٹ کے قتل کی مبینہ سازش کے سامنے آنے کے بعد چھاپا گیا ہے اور ان اخبارات کا کہنا ہے کہ وہ آزادی اظہار کے حوالے سے اپنے عزم کا اظہار کرنا چاہتے ہیں۔
یہ متنازعہ کارٹون پہلی مرتبہ ستمبر سنہ 2005 میں شائع ہوا تھا اور اس کے بعد دنیا بھر میں نہ صرف ڈنمارک کے سفارتخانوں پر حملے ہوئے تھے بلکہ پرتشدد ہنگاموں میں متعدد افراد مارے بھی گئے تھے۔