Friday, 29 February, 2008, 16:57 GMT 21:57 PST
ترکی کی فوج نے اعلان کیا ہے کہ وہ شمالی عراق میں مقاصد کے حصول کے بعد وہاں سے نکل آئی ہے۔
عراق نے ترکی کی فوج کا عراق میں در اندازی کو خود مختاری کی خلاف ورزی قرار دیا تھا۔
ترکی نے کہا ہے کہ اس کی فوج عراقی کردستان سے اپنے مقاصد کی کامیابی کے بعد واپس ہوئی ہے اور یہ واپسی کسی دباؤ کا نتیجہ نہیں ہے۔
امریکہ نے ایک روز پہلے ہی ترکی کو کہا تھا کہ جلد سے جلد عراقی علاقے سے نکل جائے۔
ترکی نے کہا کہ اس آپریشن میں دو سو چالیس کرد باغیوں کو ہلاک کیا گیا ہے۔ ترکی کی فوج نے تسلیم کیا کہ اس کے ستائیس فوجی بھی اس آپریشن میں مارے گئے ہیں۔
ترکی نے کہا کہ وہ مستقبل میں بھی عراقی علاقے پر نظر رکھیں گے تاکہ دہشت گردوں پر نظر رکھی جا سکے۔
عراق کے وزیرِ خارجہ ہشیار زبیری نے ترک فوج کے انخلاء کو مثبت اقدام قرار دیا ہے۔
ترکی کے دورے پر آئے ہوئے امریکی وزیرِ دفاع رابرٹ گیٹس نے ترکی کی حکومت کو صدر جارج بش کا پیغام پہنچایا جس میں ترکی کو کہا
گیا ہے کہ وہ عراق سے فوراً نکل جائے۔