Friday, 29 February, 2008, 09:22 GMT 14:22 PST
عراق کی حکومت نے صدام حسین کے رشتے کے بھائی اور ان کے قریبی ساتھی حسن الماجد المعروف’ کیمیکل علی‘ کی سزائے موت پر عمل درآمد کی منظوری دے دی ہے۔
حسن الماجد کو سنہ 1988 میں شمالی عراق میں زہریلی گیس سے کردوں کے قتل عام کے الزام میں موت کی سزا سنائی گئی تھی۔ اس مہم ميں تقریباً ایک لاکھ لوگ ہلاک ہوئے تھے۔
’ کیمیکل علی‘ کوگزشتہ برس جون میں نسل کشی کے الزام کے تحت موت کی سزا سنائی گئی تھی۔ تاہم اس پر عملدرآمد کی منظوری دو دن قبل دی گئی ہے۔ عراق کے قوانین کے مطابق اب اس سزا پر تیس دن کے اندر عملدرآمد ہونا ہے۔
کیمیکل علی کے ساتھ فوج کے سینئر افسر حسین راشد التکریتی اور سابق وزیر دفاع سلطان ہاشم کو بھی سزا سنائی گئی تھی۔ ان تینوں کوگزشتہ برس اکتوبر تک پھانسی ہو جانی چاہیے تھی لیکن قانونی پیچیدگیوں کے سبب ایسا نہیں ہو سکا۔
عراقی صدر کے دفتر سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق صدر جلال طالبانی اور دو نائب صدور نے ابھی تک تکریتی اور ہاشم کی پھانسی پر عملدرآمد کی منظوری نہیں دی ہے۔
خبر رساں ایجنسی رائٹرز نے ذرائع کے حوالے سے لکھا ہے کہ ان دونوں کی پھانسی کے بارے میں مختلف رائے ہیں جنہیں حل کیا جانا ہے۔ اطلاعات کے مطابق سنّی سیاستدانوں کی طرف سے اعتراضات کے بعد ہاشم کی سزا میں تاخیر ہوئی ہے۔عراق کے نائب صدر طارق الہاشمی ان لوگوں میں پیش پیش تھے جنہوں نے یہ دلیل دی کہ ہاشم محض ایک فوج کا جوان تھا اور انہیں رہا کر دینا چاہیے۔