Thursday, 28 February, 2008, 02:29 GMT 07:29 PST
امریکی خفیہ ایجنسیوں کے ماہرین کا کہنا ہے کہ طالبان نے افغانستان کے دس فیصد حصے پر قبضہ کر لیا ہے اور صدر حامد کرزئی کا کنٹرول صرف تیس فیصد افغانستان پر ہے۔
امریکہ کے ادارے نیشنل انٹیلیجنس کے ڈائریکٹر مائیک میککونل نے امریکی سینٹ کمیٹی کو بتایا ہے کہ افغانستان پر زیادہ کنٹرول قبائلی سرداروں کا ہے۔
واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار جوناتھن بیل کہتے ہیں کہ خارجہ پالیسی کے غیر جانبدار ماہرین پہلے ہی یہ وارننگ دے چکے ہیں کہ چھ سال قبل امریکہ کی سربراہی میں اتحادی فوجوں کے طالبان حکومت کا خاتمہ کرنے کے باوجود بھی افغانستان زیادہ تر ایک ناکام ریاست ہے۔
امریکہ کی ڈیفنس انٹیلیجنس ایجنسی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل مائیکل میپلز نے بھی اسی کمیٹی کو بتایا کہ ابھی بھی اتحادی فوج کو افغانستان اور پاکستان کی سرحد کے ساتھ قبائلی علاقوں میں کارروائی کرنے میں بہت سی دشواریوں کا سامنا ہے۔
یہ وہ علاقہ ہے جہاں خیال ہے کہ القاعدہ کے جنگجو اور طالبان تربیت حاصل کرتے ہیں اور پھر افغانستان کے اندر حملے کرتے ہیں۔
مائیکل میپلز نے کہا ہے کہ پاکستان کی فوج کو اس قسم کی جنگ کی تربیت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی کمیوں کو پورا کرنے میں تین سے پانچ سال تک لگ سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اب تک پاکستان کی فوج علاقے میں القاعدہ کے ٹھکانوں کو بنیادی طور پر تباہ نہیں کر پائی ہے۔
گزشتہ ماہ بھی ایک غیر سرکاری ادارے افغانستان نیشنل سیکیورٹی آرگنائزیشن نے کہا تھا کہ پچھلے سال عملی طور پر ماضی کے مقابلے میں زیادہ طالبان ، نیٹو اور امریکی افواج کے خلاف حملوں میں شامل ہوئے۔
اس ادارے کے مطابق طالبان کے خلاف جنگ میں امریکی اور نیٹو افواج ایک ایسے دور میں داخل ہو رہی ہیں جہاں انہیں بڑے وسیع محاذوں اور شدید ترین مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ادارے نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ نیٹو اور امریکی افواج یہ جنگ ہار بھی سکتی ہیں۔