http://bbc.com.im/urdu/

Friday, 29 February, 2008, 01:02 GMT 06:02 PST

حکومت دو ہفتوں میں: نیگروپونٹے

امریکہ نے کہا ہے کہ اس کا اندازہ ہے کہ دو ہفتوں کے اندر یا اس سے بھی پہلے پاکستان میں ایک نئی حکومت آ جائے گی اور یہ امید ظاہر کی ہے کہ جو بھی حکومت آئے گی وہ اس کے ساتھ مل کر کام کر سکے گی۔

امریکی کانگریس میں پوچھے گئے سوال جواب میں نائب امریکی وزیرِ خارجہ جان نیگروپونٹے نے کہا ہے کہ پاکستان کے حالیہ انتخابات کے نتائج نے امریکہ کو یہ موقع فراہم کیا ہے کہ پاکستان کے ساتھ طویل عرصے تک مضبوط تعلقات کی بنیاد رکھے۔

واشنگٹن سے بی بی سی کے نامہ نگار برجیش اوپادھیائے کے مطابق جان نیگروپونٹے کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں موجود امریکی سفیر نے انہیں بتایا ہے کہ دو ہفتے یا اس سے بھی پہلے پاکستان میں ایک نئی حکومت بن جائے گی۔

نیگروپونٹے نے یہ بھی کہا ہے کہ چاہے جس کی بھی حکومت بنے امریکہ سبھی رہنماؤں کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہے اور امریکہ کسی پر بھی یہ دباؤ نہیں ڈال رہا ہے کہ کون کس کے ساتھ مخلوط حکومت میں شامل ہو۔

امریکی سینٹ میں سوالوں کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے یہ بھی کہا کہ مشرف ابھی بھی پاکستان کے صدر ہیں اور وہ امریکہ ان کے ساتھ کام کرتا رہے گا۔

نامہ نگار کے مطابق صدر مشرف کے بارے میں بش انتظامیہ کی طرف سے پہلے دیے گئے بیانوں سے جمعرات کا یہ بیان کافی ماپ تول کر دیا گیا ہے اور تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ یہ ایک اشارہ ضرور تھا کہ امریکہ اپنے آپ کو مشرف سے دور کرنے کی کوشش میں ہے۔

نیگروپونٹے نے کانگریس سے کہا کہ ان انتخابات نے پاکستان کی عوام کو ایک موقعہ فراہم کیا تاکہ وہ اس کا پورا استعمال کر سکیں اور اس میں امریکہ کو ان کی پوری مدد کرنی چاہیئے۔

ان کا کہنا تھا کہ نئی حکومت جو بھی بنے اس سے ان کی یہی توقع ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ ملک کر شدت پسندی کی جڑ کو ختم کرنے پر کام کرے، خاص کر قبائلی علاقوں میں۔

نیگروپونٹے کا کہنا تھا کہ وہاں اب جنگ دل اور دماغ کو جیتنے کی ہے۔ ’اگر وہاں کے افراد کی معاشی حالت کو بہتر نہیں کیا گیا تو پھر انہیں شدت پسندوں کی طرف جانے سے روکنا مشکل ہو گا۔‘

انہوں نے کانگریس سے اپیل کی کہ قبائلی علاقے کی بہتری کے لیے وہاں سکول بن سکیں، روزی روٹی ملے، ہسپتال بن سکیں اس کے لیے کانگریس جلد سے جلد ایک بل پاس کرے اور اس پر تیزی سے کام ہو۔

سینیٹر جوزف بائیڈن جو حال ہی میں پاکستان کے دورے سے لوٹے ہیں انہوں نے کہا کہ بہت جلد وہ سینیٹر رچرڈ لوئگر کے ساتھ مل کر ایک بل پیش کریں گے جس میں پاکستان کی میعشت کی بہتری کے لیے دی جانے والی امداد کو تین گنا بڑھانے کی بات ہو گی۔

لیکن ساتھ ہی پاکستان کو 2001 سے ابتک دی گئی فوجی امداد پر کافی سوال اٹھائے گئے اور سینیٹرز نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ سارے بل جو دہشت گردی کے خلاف جنگ کے خرچ کے طور پر پاکستان کی طرف سے دیے گئے ہیں وہ انہیں دکھائے جائیں۔

نامہ نگار کہتے ہیں کہ کچھ ہفتوں سے بش انتظامیہ کی پاکستان پالیسی پر کافی تنقید ہو رہی ہے اور تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کی طرف سے ایک بھرپور کوشش نظر آ رہی ہے کہ اب ایک شخص نہیں بلکہ پورے عوام کا دل جیتا جائے اور شاید یہی وجہ ہے کہ کل تک دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صرف صدر مشرف کے ساتھ کام کرنے والے امریکی اہلکار آج نئی حکومت اور پورے ملک کے ساتھ کام کرنے کی بات کر رہے ہیں۔