Thursday, 28 February, 2008, 15:06 GMT 20:06 PST
افغانستان میں وزارت داخلہ نے کہا ہے کہ پولیس نے جنوبی صوبے ہلمند میں پچیس طالبان ہلاک کر دیے ہیں۔
پولیس اور طالبان کے درمیان جھڑپ بدھ کو اس وقت شروع ہوئی جب مبینہ طالبان نے پوست تلف کرنے والے ایک مشن پر حملہ کیا۔
یہ بھی کہا گیا کہ ایک اعلیٰ کمانڈر ملا نجیب اللہ بھی ہلاک ہونے والوں میں شامل تھے لیکن طالبان نے اس کی تردید کی ہے۔
ملا نجیب اللہ کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ دہ بار قید سے فرار ہو چکے ہیں۔ ایک شخص نے اپنا نام ملا نقیب اللہ بتاتے ہوئے بی بی سی کو فون کر بتایا کہ ملا نجیب اللہ زندہ ہیں اور اس لڑائی میں شامل نہیں تھے۔
اسی دوران ایک اعلیٰ امریکی اہلکار مائیکل مکونل نے کہا ہے کہ طالبان نے اقتدار سے نکالے جانے کے چھ سال بعد افغانستان کے دس فیصد علاقے پر قبضہ کر لیا ہے۔ افغانستان اور نیٹو کی افواج کو گزشتہ سال کے دوران از سر نو منظم ہوتے طالبان کا سامنا رہا ہے