Wednesday, 27 February, 2008, 13:54 GMT 18:54 PST
امریکہ میں ڈیموکریٹ پارٹی کی نامزدگی کے لیے مدمقابل امیدواروں ہلیری کلنٹن اور باراک اوباما نے ایک ٹی وی مباحثے کے دوران ایک دوسرے پر منفی مہم چلانے کے الزامات لگائے ہیں۔
دونوں رہنماؤں نے عراق جنگ کے علاوہ خارجہ پالیسی، تجارت اور صحت کے حوالے سے ایک دوسرے کی پالیسیوں پر بھی کڑی تنقید کی۔
ریاست اوہایو کے شہر کلیولینڈ میں ہونے والے اس مباحثے کے ابتدائی لمحات میں ہی دونوں رہنماؤں نے اپنے مدِ مقابل پر اپنی پالیسیوں کے حوالے سے غلط فہمیاں پھیلانے کا الزام لگایا۔
ہلیری کلنٹن کا کہنا تھا کہ ’سینیٹر اوبامہ کی مہم کے دوران میرے ہیلتھ کیئر منصوبے اور نافٹا(شمالی امریکہ ازاد تجارتی معاہدہ) کے حوالے سے میرے خیالات کے بارے میں جو خبریں دی گئی ہیں وہ میرے لیے بہت پریشان کن ہیں‘۔
اس کے جواب میں باراک اوبامہ کا کہنا تھا کہ ان کی مخالف کی مہم کے دوران’ہم پر منفی حملے کیے گئے۔ تاہم میں نے اس کی شکایت نہیں کر رہا کیونکہ میں جانتا ہوں کہ یہ مہمات کس قسم کی ہوتی ہیں‘۔
یہ بحث آئندہ ہفتے اوہایو اور ٹیکساس میں ہونے والی پرائمری انتخابات سے قبل آخری دو بدو مباحثے کے دوران ہوئی۔ یاد رہے کہ باراک اوبامہ گزشتہ گیارہ ریاستوں میں ہونے والے پرائمری انتخابات میں فاتح رہے ہیں اور مبصرین کا کہنا ہے کہ ہیلری کلنٹن کے لیے اوہایو اور ٹیکساس میں ہونے والے پرائمری انتخابات میں کامیابی حاصل کرنا بہت ضروری ہے۔
اس سے قبل انٹر نیٹ پر باراک اوباما کی ایک تصویر شائع ہونے کے بعد بھی باراک اوبامہ اور ہیلری کلنٹن کے درمیان الزامات کا تبادلہ ہوا تھا۔ انٹرنیٹ پر شائع ہونے والی اس تصویر میں باراک اوباما کو سن دو ہزار چھ میں کینیا کے دورے میں وہاں کا روایتی لباس پہنے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
باراک اوباما کے معاونین کا کہنا ہے کہ یہ تصویر ہیلری کلنٹن کے اسٹاف کے لوگوں نے بھجوائی ہے اور یہ ان کو بدنام کرنے کی کوشش ہے۔ ہیلری کلنٹن نے ان الزامات کی تردید کی تھی۔
ہیلری کلنٹن کے معاونین ماضی میں ڈیموکریٹ پارٹی کے ارکان کو یہ باور کرانے کی کوشش کرتے رہے ہیں کہ باراک اوباما کا ماضی انتخابات میں ڈیموکریٹ پارٹی کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔