Tuesday, 26 February, 2008, 03:14 GMT 08:14 PST
امریکہ میں ڈیموکریٹ پارٹی کی نامزدگی کے لیے مدمقابل امیدواروں ہیلری کلنٹن اور باراک اوباما کے درمیان انٹر نیٹ پر باراک اوباما کی ایک تصویر شائع ہونے کے بعد الزامات کا تبادلہ ہوا ہے۔
انٹرنیٹ پر شائع ہونے والی اس تصویر میں باراک اوباما کو سن دو ہزار چھ میں کینیا کے دورے میں وہاں کا روائیتی لباس پہنے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
باراک اوباما کے معاونین کا کہنا ہے کہ یہ تصویر ہیلری کلنٹن کے اسٹاف کے لوگوں نے بھجوائی ہے اور یہ ان کو بدنام کرنے کی کوشش ہے۔ ہیلری کلنٹن نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔
ڈیموکریٹ پارٹی کے صدارتی امیدوار کی نامزدگی حاصل کرنے کے مدمقابل ہیلری کلنٹن اور باراک اوباما کے درمیان الزامات کا تبادلہ اگلے ہفتے دو اہم ریاستوں میں انتخابات سے قبل ہوا ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ ہیلری کلنٹن کے لیے اوہائیو اور ٹکساس میں ہونے والے پرائمری انتخابات میں کامیابی حاصل کرنا بہت ضروری ہے۔
![]() |
|
تصویر شائع کرنے والی ویب سائٹ ڈرج رپورٹ کا کہنا ہے کہ یہ تصویر ہیلری کلنٹن کے اسٹاف نے فراہم کی ہے۔
ہیلری کلنٹن کے معاونین ماضی میں ڈیموکریٹ پارٹی کے ارکان کو یہ باور کرانے کی کوشش کرتے رہے ہیں کہ باراک اوباما کا ماضی انتخابات میں ڈیموکریٹ پارٹی کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
اوباما کی انتخابی مہم چلانے والوں نے اس تصویر کی اشاعت پر سخت رد عمل ظاہر کیا ہے۔ اور کہا ہے اس مہم کے دوران اس سے زیادہ شرمناک، ناپسندیدہ اور دلوں میں خوف ابھارنے والی حرکت کسی اور نے نہیں کی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ تصویر اس بات کو سامنے رکھ کر شائع کرائی گئی ہے کہ بارک اوباما کے بیرونی رشتوں کو ابھار کر ووٹروں کو ان کی حمایت سے ڈرایا جاۓ۔
ہیلری کلنٹن کے کیمپ نے جواب میں کہا ہے کہ جہاں تک ہمیں علم ہے ہمارے کسی شخص نے یہ تصویر نہیں دی تھی اور الٹا یہ سول پوچھا ہے کہ بارک اوباما کا کیمپ اسے تفرقہ پھیلانے والی تصویر کیوں کہتا ہے۔
بہر حال تصویر کی اصلیت خواہ کچھ ہی ہو اس قضیہ نے یہ ثابت کردیا ہے کہ اس دوڑ کتنی حد درجے کی تلخی آچکی ہے۔ اگلے ہفتے دو ریاستوں، اوہائیو اور ٹیکساس کے نتائج پر اب اس بات کا انحضار ہو گا کہ آیا ہیلری کلنٹن اس دوڑ میں شامل رہیں گی یا باہر ہو جائیں گی۔