Tuesday, 26 February, 2008, 17:04 GMT 22:04 PST
پاکستانی پارلیمان کے ایوان بالا سینیٹ نے ڈنمارک کے کچھ اخبارات میں پیغمبر اسلام کے متنازعہ خاکوں کی دوبارہ اشاعت کے خلاف متفقہ قراردادِ مذمت منظور کی ہے۔
مسلم لیگ (ق) سے تعلق رکھنے والے قائد ایوان وسیم سجاد نے ایوان میں قرارداد پیش کی کہ ایوان بالا ڈنمارک کے اخباروں میں خاکوں کی دوبارہ اشاعت کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس طرح کی کوششیں اسلام اور امت مسلمہ کے خلاف ایک سازش کا حصہ ہیں جس کا مقصد اسلام اور اسلامی رول ماڈلز کی توہین کرنا اور دنیا بھر میں مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرنا ہے۔ ’یہ اشتعال انگیز حملے ایک منصوبہ کا حصہ بھی ہو سکتے ہیں جس کا مقصد کچھ لوگوں کو پرتشدد ردعمل پر اکسانا ہے۔‘
متفقہ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ سینیٹ اسلام اور پیغمبر پر ان حملوں کو اخلاقی جرم ، مذہبی اشتعال انگیزی اور تہذیبوں کے ٹکراؤ کے لیے اکسانے والی ایک سیاسی مہم کا حصہ سمجھتا ہے۔
’ان خاکوں کی دوبارہ اشاعت سے مختلف عقائد کے ماننے والوں کے درمیان ہم آہنگی پر مضر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ایسے مذموم اقدامات کو اظہار رائے کی آزادی کے نام پر قبول نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی اظہار رائے کی آزادی کے نام پر کسی کی توہین کی اجازت دی جا سکتی ہے۔‘
قرارداد میں کہا گیا ہے کہ بعض یورپی ممالک کی جانب سے یہ منافقت کی انتہا ہے کہ انہوں نے ہولو کاسٹ سے انکار کو قابل سزا جرم قرار دے دیا ہے مگر ’اسلام کو بدنام کرنے اور مذہبی کمیونٹیز کے درمیان نفرت کو فروغ دینے کیلئے انتہا پسندوں کو کھلی چھوٹ دیدی ہے‘۔