ایران میں ہم جنسیت ممنوع ہے اور ہم جنسیت کی سزا موت ہے لیکن تبدیلی جنس کے لیے آپریشن کی اجازت ہے، جس کے نتیجے میں اب تک سینکڑوں مخلوط الجنس آپریشن کرانے کے بعد اپنی زندگیاں تبدیل کر چکے ہیں۔
’وہ مجھے قتل کرنا چاہتا ہے۔ وہ مجھے بار بار گھر آنے کے لیے کہتا رہتا ہے صرف اس لیے کہ مجھے جان سے مار سکے۔ وہ مجھے چائے کے ذریعے چوہے مار زہر دینے کی کوشش بھی کر چکا ہے‘۔
چوبیس سالہ علی عسکر کو عورت بننے کی بھاری قیمت چکانی پڑی ہے۔ ان کے والد نے انہیں دھمکی دی تھی کہ اگر اس نے آپریشن کرایا تو وہ اُسے جان سے مار دیں گے۔
جنس تبدیل کرانے کے بعد اس نے نگار کا نام اختیار کر لیا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اگر وہ ایران میں نہ ہوتا تو جنس کی تبدیل کے لیے آپریشن نہ کراتا۔
عسکر اور اب نگار کہتی ہیں کہ ’اگر آپریشن کرانا ناگزیر نہ ہوتا تو میں آپریشن کیوں کراتی، مجھے کیا پڑی تھی کہ خدا کے کام میں دخل دیتی‘۔ لیکن ان کا کہنا ہے کہ علی عسکر کی حیثیت سے میری کوئی شناخت نہیں تھی۔
اس کا کہنا ہے کہ میں مردوں کے ساتھ کام نہیں کر سکتی تھی کیونکہ وہ مجھے جنسی طور پر ہراساں کرتے تھے اور میرا مذاق اڑاتے تھے۔
وہ عورتوں میں بھی کام نہیں کر سکتی تھی کیونکہ میں سرکاری طور پر عورت نہیں تھی۔
![]() |
|
| ’میں بھی دوسروں کی طرح رہنا چاہتی تھی۔ جیسے دوسرے لڑکے اور لڑکیاں ہوتے تھے۔ جیسے وہ آزادی سے آتے جاتے تھے اور اس کے ساتھ ہی مجھے اپنی شناخت کی شدید ضرورت محسوس ہوتی تھی |
ایران میں 1979 میں روحانی پیشوا آیت اللہ خمینی کے فتوے کے بعد سے جنس کی تبدیلی کے لیے آپریشن کی قانوناً اجازت ہے اور اب ایران میں جنس کی تبدیلی کے لیے آپریشن کرانے والوں کی تعداد، دنیا بھی جنس کی تبدیلی کے لیے آپریشن کرانے والوں کی تعداد تھائی لینڈ کے بعد سب سے زیادہ ہے۔
یہی نہیں ایران میں حکومت جنس کی تبدیلی کے لیے آپریشن کرانے والے والے ایسے لوگوں کے نصف اخراجات بھی اٹھاتی ہے جو پیدائشی طور
پر مخلوط النسل ہوتے ہیں۔
|
جنس تبدل کرنا گناہ نہیں
|
لیکن اس کے باوجود ایران میں ہم جنسیت کی سزا موت ہے۔
محمد مہدی کے مطابق ’ہم جنسیت کا معاملہ بنیادی طور پر جنس کی تبدیلی سے ایک الگ معاملہ ہے۔ ہم جنسیت کرنے والے غیر فطری اور خلافِ مذہب عمل کے مرتکب ہوتے ہیں۔ اور ہمارا مذہب واضح طور پر کہتا ہے کہ اس کی اجازت نہیں ہے کیونکہ اس سے معاشرتی ہم آہنگی میں رخنہ پڑتا ہے‘۔
ایران میں جنس کی تبدیلی کے آپریشنوں کے ماہر سرجن ڈاکٹر میر جلالی پیرس کے تربیت یافتہ ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے گزشتہ بارہ سال کے دوران اب تک ساڑھے چار سو آپریشن کیے ہیں۔
ان کے پاس آنے والے لوگوں کی اکثریت اس مسئلے سے دوچار تھی کہ وہ زندگی کیسے گزاریں کیونکہ وہ معاشرتی معمول سے ہم آہنگ نہیں ہو
پاتے تھے۔ اس صورت میں صرف ڈاکٹر جلالی ہی تھے جو ان کی زندگی بچا سکتے تھے۔
![]() |
|
| ایک مخلط النسل آپریشن کے بععد اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ باقاعدہ زندگی گزار رہی ہے |
ان کی ایک اور مریض 21 سالہ انوش ہیں۔ آپریشن سے پہلے وہ انتہائی مایوسی کا شکار تھیں اور انہیں بہت جلد سکول بھی چھوڑنا پڑ گیا تھا کیونکہ ان کاجسم لڑکوں جیسا تھا اور رویہ لڑکیوں جیسا۔
ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے آپریشن سے پہلے خاندان کے لوگوں کی خواہشات کے مطابق ہونے کی پوری کوشش کی۔ ’میں بھی دوسروں کی طرح رہنا چاہتی تھی۔ جیسے دوسرے لڑکے اور لڑکیاں ہوتے تھے۔ جیسے وہ آزادی سے آتے جاتے تھے اور اس کے ساتھ ہی مجھے اپنی شناخت کی شدید ضرورت محسوس ہوتی تھی‘۔
ان کے دوست کا کہنا ہے کہ ’آپریشن سے جب انوش لڑکیوں کے کپڑے پہن کر نکلتی تھی تو اسے لڑکی کے طور پر متعارف کرانے میں مجھے بالکل کوئی دشواری نہیں ہوتی تھی‘۔
لیکن انوش کے چھوٹے بھائی علی رضا اب تک اپنے بھائی کی جنس تبدیل ہونے کو قبول نہیں کر پائے۔
ان کا کہنا ہے کہ ’اتنے سال سے میرا ایک بھائی تھا اب میں اچانک یہ کیسے قبول کر لوں کہ وہ بھائی نہیں بہن ہے۔ یہ حقیقت ہے لیکن میرے لیے اسے قبول کرنا آسان نہیں ہے۔
انوش کی والدہ کے لیے انوش کی تبدیلی اب تک مسئلہ بنی ہوئی ہےآ ان کا کہنا ہے کہ ’میرے بیٹے کو میرے خاندان کا ستارہ بننا تھا، نہیں بن سکا نہ سہی لیکن لڑکی تونہ ہوتا‘۔