Sunday, 24 February, 2008, 00:27 GMT 05:27 PST
عراق کے وزیر خارجہ نے خبردار کیا ہے کہ شمالی عراق میں کرد باغیوں کے خلاف ترکی کی فوجی کارروائی پورے خطے کو عدم استحکام کا شکار کر سکتی ہے۔
ہوشیار زیباری نے کہا ہے کہ عراق کے غیر آباد اور دور افتاد علاقوں میں کارروائی جلد از جلد بند ہونی چاہیے۔
کرد باغیوں کے علاقائی رہنما نے کہا ہے کہ اگر شہریوں پر حملے کیئے گئے تو اس کی زبردست مزاحمت ہو گی۔
عراقی علاقوں پر ترک فوج کے حملوں میں ہلاک ہونے والوں کے بارے میں دونوں اطراف سے متضاد دعوئے کئے گئے ہیں۔
امریکہ کی حکومت اور اقوام متحدہ نے ترکی سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔
نامہ نگاروں کے مطابق ترکی کی طرف سے ان حملوں کا مقصد کردستان ورکرز پارٹی یا پی کے کے کے باغیوں کو ترکی کی سرزمین پر حملے کرنے کے لیے شمالی عراق کے ٹھکانے استعمال کرنے سے باز رکھنا ہے۔
انیس سو چوراسی سے کردستان کی آزادی کے لیے جاری جدوجہد میں اب تک تیس ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔
![]() |
|
| کرد باغیوں نے زبردست مزاحمت کی دھمکی دی ہے |
ترک حکومت کا کہنا ہے کہ اس کی زمینی افواج نے جمعرات کو رات گئے عراق کی سرحد عبور کر کے کرد باغیوں کو نشانہ بنایا۔ اس سے قبل کرد باغیوں کے ٹھکانوں پر فضائیہ اور توپ خانے کے ذریعے بمباری کی گئی۔
انقرہ کا کہنا ہے کہ دو دنوں کی لڑائی میں اناسی کرد باغی اور سات ترک فوجی ہلاک ہوئے۔ کرد باغیوں کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے بائیس ترک فوجیوں کو ہلاک کیا جبکہ ان کی پانچ کارکن زخمی ہوئے۔
ترکی سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق کردوں کے خلاف کارروائی کرنے والی فوج میں شامل فوجیوں کی تعداد تین ہزار سے دس ہزار کے درمیان تھی۔
ہوشیا زیباری نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ شمالی عراق کے دورافتاد علاقے میں ایک محدود فوجی کارروائی تھی۔ تاہم انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ ایک غلطی سے پورا خطہ عدم استحکام کا شکار ہو سکتا ہے۔
زیباری نے کہا کہ ترک حکومت کی طرف سے یقین دہانیوں کے باوجود کے شہری سہولیات کو نقصان نہیں پہنچایا جائے گا اس علاقے میں متعدد پلوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔