Saturday, 23 February, 2008, 05:44 GMT 10:44 PST
امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائیس نے کہا ہے کہ ایران پر اس کے جوہری پروگرام کی وجہ سے مزید پابندیاں عائد کرنے کے لیےمضبوطجوازموجودہے۔
ان کے بیان سے پہلے اقوام متحدہ کا جوہری ادارہ یہ کہہ چکا تھا کہ وہ وثوق سے نہیں کہہ سکتا کہ ایران ایٹمی بم نہیں بنا رہا۔
اقوام متحدہ میں سلامتی کونسل کے ممبران امریکہ، روس، چین، فرانس اور برطانیہ پیر کو واشنگٹن میں صورتحال کا جائزہ لیں گے اور ممکنہ اقدام پر غور کریں گے۔
عالمی جوہری ادارے آئی اے ای اے نے اپنی رپورٹ میں جوہری تنصیبات تک رسائی دینے پر ایران کی تعریف کی تھی لیکن ساتھ ہی اس نے یہ بھی کہا تھا کہ ایران اہم موضوعات پر سیدھا جواب نہیں دے رہا۔ آئی اے ای اے اور ایران کے درمیان گزشتہ سال اگست میں سمجھوتہ ہوا تھا جس میں طے ہوا تھا کہ ایران اپنے جوہری پروگرام کے بارے میں ایک نظام الاوقات کے تحت سوالات کے جواب دے گا۔
لیکن جمعہ کو جاری ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران نے ان دعووں کا واضح جواب نہیں دیا کہ اس نے خفیہ طور پر جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کی ہے۔
بی بی سی کے نامہ نگار جوناتھن مارکس نے کہا کہ آئی اے ای اے کی رپورٹ یقیناً ایران مکمل طور پر شک سے بالا نہیں کرتی۔
سن دو ہزار تین میں امریکہ میں خفیہ اداروں کی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ایران نے سن دو ہزار تین میں اپنا جوہری پروگرام روک دیا تھا۔ لیکن امریکہ، اسرائیل اور کچھ دیگر ممالک کہتے ہیں کہ ایران نے پیشرفت جاری رکھی جس کی مدد سے وہ مستقبل میں ایٹمی بم بھی بنا سکے گا۔