Friday, 22 February, 2008, 09:28 GMT 14:28 PST
امریکہ میں ڈیموکریٹک جماعت کی صدارتی امیدوار ہلری کلنٹن نے ایک ٹی وی شو میں براہ راست بحث کے دوران اپنے حریف باراک اوبامہ پر سیاسی چربہ سازی کا الزام عائد کیا ہے۔ تاہم باراک اوبامہ نے اس الزام کی تردید کی ہے۔
یہ بحث ٹیکساس میں ہوئی تھی جہاں اگلے مہینے پارٹی میں صدر کے عہدے کے امیدوار کے لیے ابتدائی ووٹنگ ہو گی۔
باراک اوبامہ پر یہ الزام ایک ایسے وقت میں عائد کیا گیا ہے جب انہوں نے مسلسل گیارہ پرائمری انتخابات میں محترمہ کلنٹن کو شکست دی ہے۔
ٹیکساس اور اوہایو دونوں ریاستووں میں آئندہ چار مارچ کو اوبامہ اور کلنٹن کے درمیان اہم مقابلہ ہونے والا ہے۔ یہ مقابلہ محترمہ کلنٹن کے لیے کافی اہمیت رکھتا ہے۔اس اہم دن کے پیش نظر جمعرات کو ٹیکساس یونیورسٹی میں یہ بحث منعقد کی گئی تھی۔
میسیچیوسٹس میں کیمپئین کے دوران محترمہ کلنٹن نے اوبامہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا’ اگر الفاظ کے ذریعے ہی امیدوار کی لڑائی لڑنی ہے تو وہ الفاظ خود کے ہونے چاہئيں‘۔
لیکن باراک اوبامہ نے اس الزام کے جواب میں کہا’ ہمیں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ ہمیں ملک کی ترقی کے بارے میں سوچنے کی ضرورت ہے‘۔
محترمہ کلنٹن نے اوبامہ کی خارجہ پالسیز کے بعض پہلؤوں پر بھی نکتہ چینی کی ہے جس میں باراک اوبامہ نے کیوبا اور ایران کے رہمناؤں سے بلا کسی شرط کے ملاقات کرنے کی بات کہی تھی۔
مسٹر اوبامہ نے اپنا موقف واضع کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ کے نئے صدر کو دونوں ممالک سے تعلقات بنانے چاہئیں اور اس بات کا خیال رکھنا پڑے گا کہ اس ملاقات کی صحیح ڈھنگ سے تیاری کی جائے۔
خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق باراک اوبامہ کے پاس 1353 نمائندوں کی حمایت حاصل ہے۔
جبکہ محترمہ کلنٹن 1264 نمائندوں کی حمایت حاصل کر چکی ہیں۔
صدراتی امیدوار بننے کے لیے کم از کم 2025 نمائندوں کی حمایت چاہیئے۔
ٹیکساس اور اوہایو کے ملا کر کل 334 نمائندے ہیں جن کی حمایت حاصل کرنا محترمہ کلنٹن کے لیے بے حد ضروری ہے۔