Friday, 22 February, 2008, 00:40 GMT 05:40 PST
بیورو رپورٹ
بی بی سی نیوز
کوسوو کی آزادی کے خلاف سربیا کے دارالحکومت بلغراد میں ہزارہا افراد نے مظاہرہ کیا، اور اس دوران بعض مشتعل افراد نے متعدد سفارتخانوں پر حملے کیے ہیں اور امریکی سفارت خانے کو آگ لگا دی۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے سفارتخانے پر حملے کی مذمت کی ہے۔
مظاہرین مغربی ممالک کی طرف سے سربیا کے سابق صوبے کوسوو کی کے آزادی کے اعلان کی حمایت کرنے پر ان کے خلاف احجاج کر رہے تھے۔
امریکی دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ بلغراد کے امریکی سفارتخانے کے تمام سفارتکار بخیریت ہیں اور واشنگٹن سفارتخانے کی سکیورٹی کی ذمہ داری سربیا کے حکام پر عائد کرتے ہیں۔ تاہم امریکی سفارتخانے سے ایک جلی ہوئی لاش ملی ہے۔
سربیا کے وزیر اعظم نے احتجاجی ریلی سے کہا ’ہم جب تک زندہ ہیں تب تک کوسوو سربیا کا حصہ ہے۔‘
اس ریلی کے بعد تقریباً ہزار افراد نے امریکی سفارتخانے پر ہلہ بول دیا اور اس کے اندر داخل ہو گئے جبکہ چند افراد نے دیوار پر چڑھ کر امریکی جھنڈے کو آگ لگا دی۔
حملے کے وقت پولیس موجود نہ تھی تاہم بعد میں پولیس نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس استعمال کی۔
نیو یارک میں پندرہ رکنی سکیورٹی کونسل نے متفقہ بیان میں کہا ’سکیورٹی کونسل سخت الفاظ میں سفارتخانوں پر حملوں کی مذمت کرتی ہے اور ان حملوں کی وجہ سے نہ صرف سفارتخانوں کو نقصان پہنچا ہے بلکہ سفارتکاروں کی زندگیوں کو بھی خطرہ تھا۔‘
وہائٹ ہاؤس کی ترجمان دانا پرینو نے اتنے نرم الفاظ استعمال نہیں کیے۔ ’ہمارے سفارتخانے پر غنڈوں نے حملہ کیا تھا۔ امریکہ نے سربیا
کی انتظامیہ سے مذمت کی ہے کہ ان کی پولیس نے حملے کو روکنے کے لیے اقدامات نہیں کیے۔‘
|
|
انہوں نے مزید کہا کہ سربیا کے وزیر اعظم اور وزیر خارجہ کو باور کرادیا گیا ہے کہ آئیندہ اس قسم کے حملوں میں امریکہ ان کو ذاتی طور پر ذمہ وار ٹھہرائے گا۔
’سربیا کے وزیر اعظم نے ہمیں یقین دہانی کرائی ہے کہ اس قسم کے واقعات آئیندہ نہیں ہوں گے۔‘
دوسری طرف برطانیہ کے خارجہ سیکریٹری ڈیوڈ میلیبینڈ نے کہا کہ برطانوی سفارخانے کو زیادہ نقصان نہیں پہنچا۔ ’اگرچہ کوسوو کا ایشو سربیا کے لیے نہایت نازک ہے لیکن یہ کوئی جواز نہیں بنتا اس قسم کے حملوں کا۔‘
سربیا نے افسوس کا اظہار کیا ہے ان حملوں پر اور کہا ہے کہ یہ کام چند افراد کا ہے۔ سربیا کے وزیر خارجہ نے کہا ’یہ حملے قابل مذمت ہیں اور ہم کو افسوس ہے۔‘