Monday, 11 February, 2008, 16:22 GMT 21:22 PST
امریکہ نے گوانتانامو بے میں قید افراد میں سے چھ پر گیارہ ستمبر دو ہزار ایک کے واقعات میں ملوث ہونے کا باضابطہ الزام عائد کیا ہے۔
ان چھ میں خالد شیخ محمد بھی شامل ہیں جنہیں نائن ایلون کا ’ماسٹر مائنڈ‘ تصور کیا جاتا ہے اور پاکستان کے شہر راولپنڈی سے گرفتار کیا گیا تھا۔
اگر خالد شیخ محمد سمیت چھ افراد پر لگائے گئے الزامات ثابت ہو گئے تو ان کو پھانسی کی سزا بھی دی جا سکتی ہے۔
امریکہ محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی نے سربراہ نے بی بی سی کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے وعدہ کیا کہ نائن الیون کے مبینہ ذمہ داروں کے ساتھ انصاف ہو گا۔
یہ گوانتانامو بے میں قید افراد پر نائن الیون کے حوالے سے لگائے جانے والے پہلے براہ راست الزامات ہیں۔ ان کی سماعت متنازعہ فوجی ٹرائبیونل سِسٹم کے ذریعے ہوگی۔
امریکی محکمہ دفاع کے ترجمان برائن وھٹمین نے کہا ہے کہ ’محکمہ بہت محنت سے کچھ ایسے افراد کے خلاف مقدمے تیار کیے ہیں جو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف سنگین قسم کی دہشتگردی کے واقعات میں ملوث رہے ہیں۔‘
جن چھ افراد پر الزامات عائد کیے گئے ہیں ان خالد شیخ محمد، ولید بن اتاش، رمزی بنالشبہ، علی عبد العزیز علی، مصطفیٰ احمد حواثاوی اور مبینہ بیسواں بمبار محمد القحتانی شامل ہیں۔
خالد شیخ محمد نے، جو مبینہ طور پر القائدہ کے تیسرے بڑے رہنما ہیں، اطلاعات کے مطابق امریکی صحافی ڈینئل پرل کا سر قلم کرنے کا
اعتراف کیا ہے۔ خالد شیخ محمد کو مارچ دو ہزار تین میں پاکستان میں گرفتار کیا گیا تھا۔
![]() |
|
گوانتانامو بے میں قید دو افراد نے اس ایکٹ کے خلاف درخواستیں دائر کر رکھی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے مقدمات کی سماعت امریکی عدالتوں میں ہونی چاہیے۔
گوانتانامو بے میں تقریباً دو سو پینسٹھ قیدی ہیں، جن میں سے اسی کے خلاف امریکہ الزامات درج کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
گیارہ ستمبر دو ہزار ایک کو انیس افراد نے امریکہ میں چار ہوائی جہازوں کو ہائی جیک کیا تھا۔ دو جہاز نیو یارک میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر سے ٹکرائے، ایک پینٹاگن پر گرا اور چوتھا پینسلوینیا میں گرا تھا۔