Saturday, 09 February, 2008, 03:56 GMT 08:56 PST
توقع ہے کہ ترکی کی پارلیمان سنیچر کو آئین میں ترمیم کر کے جامعات میں خواتین کے حجاب پہنے پر عائد پابندی میں نرمی کر دے گی۔
مجوزہ ترمیم کے تحت جامعات میں صرف روایتی سکارف پہننے کی اجازت ہو جائے گی جسے سر سے لیکر ٹھوڑی تک ڈھیلے انداز میں پہننا ہوگا۔ وہ سکارف جن سے گردن چھپ جائے انہیں پہننا اب بھی ممنوع ہوگا اور برقع یا چارد پہنے پر پابندی برقرار رہے گی۔
اس مسئلے پر ترکی میں شدید تقسیم پائی جاتی ہے جہاں ریاست سیکیولر ہے۔ حجاب کے مسئلے پر گزشتہ دنوں بھی احتجاج ہوا ہے اور خدشہ ہے کہ آنے والے دنوں میں احتجاج میں شدت آ سکتی ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ سیکیولرازم کا مطلب نہیں ہونا چاہیے کہ کئی لڑکیاں (جو حجاب پہننا چاہتی ہیں لیکن جامعات میں حجاب پہننے پر پابندی کی وجہ سے وہاں جا نہیں سکتیں) تعلیم سے محروم رہیں۔
لیکن سیکیولر ادارے، فوج اور دانشور سمجھتے ہیں کہ حجاب پہننے سے یہ ہوگا کہ عام زندگی میں بھی اسلام کے اثرات نمایاں ہونے شروع ہو جائیں گے۔
اپوزیشن کی جماعتوں نے عہد کیا ہے کہ وہ مجوزہ آئینی تبدیلیوں کو آئینی عدالت میں چیلنج کریں گے۔
اے کے پارٹی جس کی بنیاد اسلامی ہے ترکی کی پارلیمان میں اسے محفوظ اکثریت حاصل ہے۔ آئین میں ترمیم کی تجاویز بدھ کو پارلیمان میں منظور کر لی گئی تھیں اور حتمی ووٹ کے لیے سنیچر کا دن مقرر کیا گیا تھا۔
ترکی کی یونیورسٹیوں میں سر پر حجاب اوڑھنے پر انیس سو ستانوے سے کڑی پابندی ہے۔ یہ پابندی اس وقت لگی تھی جب سیکیولر فوج نے تب کی حکومت کو زیادہ اسلام پسند سمجھتے ہوئے اس پر دباؤ ڈالا تھا۔