Friday, 08 February, 2008, 02:38 GMT 07:38 PST
امریکی کانگریس کے دونوں ایوانوں کمزور پڑتی معیشت کو سہارا دینے کے لیے ایک سو سڑسٹھ بلین ڈالر کا ایک منصوبہ منظور کیا ہے جسے صدر جارج بش نے تجویز کیا تھا۔
اس پیکج میں ہر بچے کے لیے تین سو ڈالر، ہر جوڑے کے لیے بارہ سو ڈالر اور اکیلے فرد کے لیے یکبارگی چھ سو ڈالر کی چھوٹ رکھی گئی ہے۔
سیاست دانوں کا کہنا ہے کہ معشت کی سست روی روکنے کے لیے فوری اقدام کی ضرورت تھی تاکہ نقصان کو کم سے کم کیا جا سکے۔ امریکہ میں ادھار اور ہاؤسنگ مارکیٹ کی وجہ سے خرابی پیدا ہوئی ہے۔
صدر بش کی جانب سے پیش کئے گئے اِس بل کی بدولت ٹیکس دہندگان کو سینکڑوں ڈالر ٹیکس میں چھوٹ ملے گی۔اس پیکج کے تحت پنشن یافتہ اور معزور افراد کو براہ راست رقوم بھی دی جائیں گی جو غربت کی وجہ سے ٹیکس دینے کی سکت نہیں رکھتے۔
صدر جارج بش نے بل منظور کیے جانے کا خیر مقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ اس سے صارفین کی دولت خرچ کرنے کی قوت بڑھے گی۔
ٹیکس میں چھوٹ کے علاوہ کم آمدنی والے افرد کو جو ٹیکس ادا نہیں کرتے، تین سو ڈالر بھی ملیں گے۔
سینیٹ میں اکثریتی جماعت کے رہنما ہیری ریڈ کا کہنا تھا کہ اس بل کی منظوری سے ملک میں معیشت کی سمت بدل جائے گی۔
تاہم کچھ سیاست دان اس بات سے فکر مند ہیں کہ کہیں اس منصوبے سے مالیات کے شعبے میں اور گزشتہ برس کے بجٹ خسارے میں اضافہ نہ ہو جائے۔