Thursday, 07 February, 2008, 00:31 GMT 05:31 PST
ترکی کی پارلیمان نے یونیورسٹیوں میں خواتین کے حجاب پہننے کی پابندی کے معاملے پرحتمی ووٹ کرانے کی حکومتی تجویز منظور کر لی ہے۔
ترکی کے اعلی تعلیمی اداروں میں خواتین کو حجاب پہننے کی اجازت نہیں ہے اور موجودہ حکومت اس قانون میں نرمی لانا چاہتی ہے۔
یونیورسٹیوں میں خواتین پر حجاب پہننے کی پابندی انیس سو اسی میں فوج کے اقتدار سنبھالنے کے بعد لگائی گئی تھی۔ اس پابندی کا مقصد ترکی میں سیکیولر اصولوں کو مستحکم کرنا تھا۔
بدھ کو ہونے والی ووٹنگ میں ایک سو تیرہ ووٹ تبدیلی کے خلاف جبکہ تین سو ستانوے اس کے حق میں پڑے۔ ہفتے کو اس سلسلے میں حتمی ووٹنگ ہوگی۔
ترک حکومت چاہتی ہے کہ خواتین کو سر پر سادے سا سکارف پہننے کی اجازت ہو لیکن بیتہشا کپڑے والے برقعے اور نقاب کی اجازت نہ دی جائے۔
اگر حکومت کو اپوزیشن کی ایک قوم پرست جماعت کی حمایت حاصل ہو تو اس کے پاس اتنے ووٹ ہیں کہ وہ اس پابندی میں یہ نرمی لا سکتی ہے۔
تاہم ترکی کی سیکیولر جماعت رپبلکن پیپلز پارٹی کا کہنا ہے کہ اگر ایسا ہوتا ہے تو وہ اس ترمیم کے خلاف آئینی عدالت میں جائے گی۔