Saturday, 02 February, 2008, 22:09 GMT 03:09 PST
ترکی کے دارالحکومت انقرہ میں ہزاروں لوگوں نے جامعات میں حجاب پہننے کی اجازت دینے کے حکومت کے منصوبے کے خلاف احتجاج کیا ہے۔ مظاہرین نے خدشے کا اظہار کیا کہ ترکی جیسے سیکولر ملک میں حجاب پہننے کی اجازت دینے سے اسلام کی انتہا پسند تشریح عام ہوجائے گی۔
ترکی کی پارلیمان اگلے ہفتے آئین میں ترمیم کرنے والے ہے جس سے حجاب پہننے کے خلاف پابندی میں نرمی آئے گی۔
حجاب کے خلاف پابندی ختم کرنے کے ہزاروں مخالفین نے جدید ترکی کے بانی اتاترک کے مزار پر جمع ہو کر احتجاج کیا۔
ترکی کی اسلامی نظریات کی حامی حکومت کا مؤقف ہے کہ حجاب پر پابندی کی وجہ سے ہزاروں لڑکیاں اعلیٰ تعلیم سے محروم رہ جاتی ہیں۔ اس کے بر عکس ترکی میں طاقتور سیکولر طبقات حجاب کو سیاسی اسلام کی علامت کے طور پر دیکھتے ہیں جو ان کے مطابق ان کی سیکولر طرز زندگی اور رائج سیاسی نظام کے لیے خطرہ ہے۔
حجاب پر پابندی ختم کرنے کے مخالفین میں فوج، جج اور جامعات کے ریکٹر شامل ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حجاب کی اجازت دینا زندگی کے تمام شعبوں میں مذہبی علامات کی واپسی کی طرف پہلا قدم ہے۔
حکومت کو پارلیمان میں ترکی کی مرکزی قوم پرست جماعت کی حمایت حاصل ہے۔ لیکن یہ بات یقینی ہے کہ حکومت کے فیصلے کو ملک کی آئینی عدالت میں چیلنج کیا جائے گا۔