افغانستان کے مستقبل کے حوالے سے مغربی دنیا کی تشویش بڑھتی جارہی ہے اور امریکی وزیر دفاع نے ایک سخت خط کے ذریعے جرمنی پر زور دیا ہے کہ طالبان کارروائیوں سے سب سے زیادہ متاثر ملک کے جنوب میں اپنے فوجی تعینات کرے۔ تاہم جرمن حکام نے جواب میں ایسی کسی بھی تعیناتی کو قطعاً رد کر دیا ہے۔
بی بی سی کے نامہ نگاروں کے مراسلوں کے مطابق افغانستان کے خطرناک ترین جنوبی علاقوں میں خصوصاً طالبان کے خلاف جنگ کے لیے معاہدۂ شمالی اوقیانوس یا نیٹو کے کئی رکن ملکوں کی طرف سے فوجیوں کی تعیناتی سے انکار پر امریکی حکام خاصے مایوس ہیں اور وہ واضح طور پر یہ محسوس کرتے ہیں کہ امریکہ کے اتحادی وہ کچھ نہیں کر رہے جو وہ کرسکتے ہیں۔
جرمنی کے تین ہزار دو سو فوجی اس وقت افغانستان میں ہیں جن میں سے کچھ دارالحکومت کابل میں جبکہ باقی ملک کے نسبتاً پرامن شمالی حصوں میں تعینات ہیں۔ لیکن دوسری جنگ عظیم کے بعد سے بیرون ملک اپنے سپاہیوں کو جنگی کارروائیوں میں شرکت کی اجازت دینے سے تردد کی بناء پر افغانستان میں جرمن فوج کے کردار کو جرمن پارلیمان کی طرف سے عائد کی گئی کئی پابندیوں سے مشروط کردیا گیا ہے۔
تاہم اب لگتاہے کہ لیتھوینیا میں نیٹو کے اجلاس اور پھر رومانیہ میں تنظیم کے سربراہ اجلاس سے پہلے امریکی مایوسی بڑھتی جارہی ہے۔ امریکی وزیر دفاع روبرٹ گیٹس کا بیان بھی اسی تناظر میں آیا ہے جس میں انہوں نے جرمن وزیرخارجہ فرانز جوزف یونگ پر زور دیا ہے کہ جرمن فوجیوں کی تعیناتی کے لیے پارلیمان نیا اختیار دے جس کے تحت ہزاروں فوجیوں کی جنوبی افغانستان میں تعیناتی بھی ممکن ہوسکے۔ تاہم جرمن موقف میں تبدیلی کا امکان کم ہی ہے اور جرمن وزیرخارجہ نے بھی روبرٹ گیٹس کو جواب میں ایسا ہی سخت خط لکھا ہے۔
امریکی وزیردفاع کی فرانس کے حکام سے بھی اس موضوع پر ملاقاتیں بے سود ہی رہی ہیں۔ فرانس کے تیرہ سو فوجی افغانستان میں ہیں۔ فرانس کے صدر نکلس سرکوزی نیٹو کے سربراہ سے بھی ملیں گے لیکن فرانس کی جانب سے بھی مزید فوجیوں کی تعیناتی کا امکان کم ہی ہے۔ اور دوسری طرف نیٹو کی مشکل یہ ہے کہ مزید کمک نہ ملنے سے طالبان کے خلاف جنوبی افغانستان میں کارروائیوں کی ناکامی کا خدشہ ہے جس سے یہ خطرہ بھی ہے کہ افغانستان میں مغرب کے نقطۂ نظر سے اب تک ہونے والی تمام پیشرفت ضائع ہوجائے اور افغانستان ایک ناکام ریاست بن جائے۔