Friday, 01 February, 2008, 02:36 GMT 07:36 PST
انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اسرائیل کی طرف سے اسرائیل کے لبنان پر دو ہزار چھ کے حملے کے بارے میں رپورٹ کو انتہائی ناقص قرار دیا ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا کہ اس انکوائری میں اسرائیلی فوجیوں کے جنگ جرائم کے بارے میں کچھ نہیں کہا گیا جن میں شہریوں کا بے دریغ قتل شامل ہے۔
حکومت کی طرف سے یہ انکوائری ونوگارڈ پینل سے کرائی گئی جس میں کہا گیا کہ اسرائیل نے بغیر واضح حکمت عملی کے یہ جنگ شروع کر دی۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ ونوگارڈ کمیشن کو حکومتی پالیسی اور فوجی حکمت عملی کا بھی جائزہ لینا چاہیے تھا جس میں حزب اللہ کے جنگجوؤں اور لبنانی شہریوں میں کوئی تمیز نہیں کی گئی تھی۔
ایمنسٹی کے مشرق وسطی اور شمالی افریقہ کے ڈائریکٹر میلکم سمارٹ نے کہا کہ انسانی حقوق کے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں کا باعت بنبے والی پالیسیوں، فیصلوں اور اسرائیل فوج کی طرف سے جنگ جرائم کے ارتکاب کو روکنے کا ایک اور موقع گنوا دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ معصوم لبنانی شہیروں کے بے دریغ قتل اور دانستہ اور بےدردی سے شہری املاک اور شہری سہولیات کو تخت و تاراج کیئے
جانے کا کمیشن نے سرسری سا ذکر کیا ہے۔
![]() |
|
| رپورٹ چھ سو زیادہ صفحات پر مشتمل ہے |
ایمنسٹی اسرائیل پر زور دے رہی ہے کہ وہ اس جنگ میں اسرائیلی فوجیوں کے رویئے کے بارے میں آزادانہ انکوائری کروائے، کلسٹر بموں کے استعمال پر پابندی لگائے اور جن علاقوں میں کلسٹر بم پھینکے گئے تھے ان کی نشاندہی کرکے ان کی صفائی میں بھی مدد دے۔
اسرائیل کی طرف سے کرائی جانے والی رپورٹ چھ سو انتیس صفحات پر مشتمل ہے جس میں صرف چھ صفحات پر کلسٹر بم کے استعمال کے بارے میں بات کی گئی ہے۔ کلسٹر بم زیادہ تر جنگ کے آخری دنوں میں استعمال کیئے گئے تھے اور لبنانی شہریوں کے لیے یہ ایک مستقل خطرہ ہیں۔
ونوگارڈ نے کہا کہ کلسٹر بم کا استعمال قانونی تھا تاہم ان کے استعمال میں احتیاط نہیں برتی گئی۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ کلسٹر بم کے استعمال کے بارے میں قواعد اور ضوابط پر نظر ثانی کی جانی چاہیے۔
ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ اس طرح کے مواد سے چالیس افراد جن میں ستائیس شہری اور تیرہ بارودی سرنگیں صاف کرنے والے شامل تھے ہلاک ہو چکے ہیں اور دو سو تینتالیس افراد زخمی ہو چکے ہیں۔
لبنان پر اسرائیلی حملے میں ایک ہزار لبنانی جن میں اکثریت شہریوں کی تھی ہلاک ہو گئے تھے جبکہ ایک سو ساٹھ اسرائیلی فوجی بھی مارے گئے تھے۔
ایمنسٹی نے اپنی رپورٹ میں حزب اللہ سے بھی کہا ہے کہ وہ پکڑے جانے والے فوجیوں سے انسانی سلوک کرے اور اسرائیلی شہریوں پر راکٹ حملے بند کرے۔