Thursday, 31 January, 2008, 10:49 GMT 15:49 PST
افغان حکام کے مطابق صوبہ ہلمند کے ڈپٹی گورنر سمیت سات افراد کو ایک بم دھماکے میں ہلاک کر دیا گیا ہے جبکہ کابل میں ایک دوسرے حملے میں ایک شخص ہلاک ہوا ہے۔
پولیس نے بتایا کہ یہ صوبائی دارالحکومت لشکرگاہ میں ایک مسجد میں ہونے والا یہ دھماکہ خود کش حملے کے نتیجے میں ہوا۔
خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس سے بات کرتے ہوئے حکام کا کہنا تھا کہ جس حملے میں نائب گورنر حاجی پیر محمد کو ہلاک کیا گیا اس میں خود کش بمبار سمیت کل سات افراد مارے گئے ہیں۔
اس سے قبل جمعرات کو ہی دارالحکومت کابل ميں بھی ایک خود کش حملہ ہوا جس میں ایک شخص ہلاک اور دو زخمی ہو گئے۔ وزارتِ داخلہ کے مطابق حملہ آور نے سٹی سنٹر کے نزدیک فوج کی گاڑی کو اپنا نشانہ بنایا۔
پولیس کا کہنا تھا دھماکے سے فوج کی گاڑی اور نزدیک سے گزرتی ہوئی ایک ٹیکسی کو نقصان پہنچا اور وزارتِ داخلہ کے مطابق امکان ہے کہ دھماکہ خیز مادہ طے شدہ وقت سے پہلے پھٹ گیا تھا۔
اس خود کش حملے کے عینی شاہد محمد شریف نے بتایا کہ وہ نزدیکی مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے جب انہوں نے ایک زوردار دھماکہ سنا۔ محمد شریف نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا ’میں وہاں سے بھاگا۔ چوراہے پر کھڑی پولیس نے ہوا میں گولیاں چلانی شروع کر دیں۔ میں نے دیکھا ایک شخص سڑک پر اپنی سائیکل کے ساتھ پڑا ہوا ہے اور چیخ رہا ہے‘۔
افغانستان میں گزشتہ دو برس میں طالبان کی جانب سے افغانستان کی فوج اور بین الاقوامی افواج پر حملے دوبارہ شروع کرنے کے بعد سکیورٹی ایک بڑا مسئلہ بن گئی ہے۔
اس ماہ کے آغاز میں بھی کابل کے ایک بڑے ہوٹل میں طالبان جنگجوؤں نے حملہ کیا تھا جس میں کم از کم چھ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ ہلاک ہونے والوں میں ناروے کے ایک صحافی سمیت ایک امریکی شہری اور کئی سکیورٹی گارڈز شامل تھے۔
دسبمر میں بھی طالبان کی جانب سے دو خود کش حملے کیے گئے تھے جن میں سے ایک حملے میں 13 افراد جبکہ کابل کے گورنر کی رہائش گاہ کے نزدیک ہوئے حملے میں پانچ افراد ہلاک ہوئے تھے۔