Tuesday, 29 January, 2008, 11:32 GMT 16:32 PST
ترکی کی دو اہم سیاسی جماعتوں کا کہنا ہے کہ وہ پارلیمان میں ایک مشترکہ منصوبہ پیش کریں گی جس کے تحت ملکی جامعات میں حجاب پر پابندی کو نرم کیا جائے گا۔
اسلامی نظریات کی حامل حکمران جماعت اور قوم پرست ایم ایچ پی پارٹی کا کہنا ہے کہ یہ انسانی حقوق اور شخصی آزادی کا معاملہ ہے۔
ترک پارلیمان میں بھی ان دونوں جماعتوں کے اتنے ارکان موجود ہیں کہ وہ حجاب پر عائد آئینی پابندی کا خاتمہ کر سکیں۔ خبر رساں ادارے رائٹرز نے ایم ایچ پی کے رہنما دولت باحصلی کے حوالے سے کہا ہے کہ مشترکہ منصوبہ منگل کو پارلیمان میں پیش کر دیا جائے گا۔
اس منصوبے کے تحت عوام کو روایتی حجاب کی اجازت دی جائے گی تاہم سیاسی اسلام کی نشانی سمجھا جانے والے ’مکمل حجاب‘ پر پابندی برقرار رہے گی۔دولت باحصلی کے مطابق ’اس منصوبے کے تحت، (حجاب میں) چہرہ ہر صورت میں کھلا رہے گا تاکہ اس سے شناخت چھپانے میں مدد نہ مل سکے‘۔
تاحال فوج کی جانب سے اس فیصلے پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ ترکی میں فوج خود کو کمال اتاترک کے سیکولر ترکی کا محافظ مانتی ہے اور سنہ 1980 میں سیکولر مزاج کی حامی فوج کی جانب سے بغاوت کے بعد ہی ترکی میں سکولوں اور جامعات میں حجاب پہننے پر پابندی عائد کی گئی تھی۔