Wednesday, 23 January, 2008, 01:14 GMT 06:14 PST
برلن میں ہونےوالے ایک اجلاس کے دوران سکیورٹی کونسل کے پانچ مستقل رکن ممالک اور جرمنی کے وزرائے خارجہ ایران کے خلاف مزید پابندیوں کے لیے قرارداد کے متن پر متفق ہوگئے ہیں۔
ایران کے متنازعہ نیوکلیئر پروگرام کو روکنے کے لیے اس قرارداد کے تحت تجویز کردہ پابندیوں کی چین اور روس نے مخالفت کرنے کی کافی کوششیں کی۔
برلن اجلاس کے دوران موجود سفارتکاروں کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف تجویز کردہ پابندیاں پہلے سے سخت ہیں۔ ایران کے خلاف پہلے سے ہی اقتصادی پابندیاں عائد ہیں۔
امریکہ اور بعض دیگر مغربی ممالک کو تشویش ہے کہ ایران ایٹمی اسلحہ بنانے کی کوشش میں مصروف ہے لیکن ایرانی حکومت کا کہنا ہے کہ اس کا ایٹمی پروگرام پرامن ہے۔
برلن میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں سلامتی کونسل کی طرف سے ایران پر پابندیاں لگانے کی تیسری قرارداد میں ایران کے بینکنگ اور کاروباری شعبوں کو ہدف بنایا گیا ہے۔
ایک فرانسیسی سفارتکار نے پیر کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ رواں ماہ کے آخر تک سلامتی کونسل میں تیسری قرارداد کا مسودہ پیش کر دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا: ’ہم معاہدے کے بہت قریب ہیں۔‘