Tuesday, 22 January, 2008, 14:20 GMT 19:20 PST
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان اور جرمنی جوہری پروگرام کے حوالے سے ایران پر مزید پابندیاں لگانے پر موجود اختلافات پر بحث کرنے والے ہیں۔
امریکہ، فرانس، برطانیہ، روس، چین اور جرمنی کے وزرائے خارجہ اس مسئلے پر بات کرنے کے لیے منگل کو برلن میں اکٹھے ہو رہے ہیں۔
امریکہ اور اس کے یورپی اتحادی یورینیم کی افزودگی نہ روکنے پر ایران پر مزید پابندیاں لگانا چاہتے ہیں جبکہ روس اور چین ایسے کسی اقدام کے لیے تیار دکھائی نہیں دیتے۔ ایران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔
برلن میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں سلامتی کونسل کی طرف سے ایران پر پابندیاں لگانے کی تیسری قرارداد پر غور کیا جائے گا، جس کے ذریعے ایران کے بنکنگ اور کاروباری شعبوں کو ہدف بنایا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا ’وزراء میں (منگل کو) مسودے پر اتفاق رائے ہو جانا چاہیے تاکہ اسے نیو یارک (اقوام متحدہ کا ہیڈ کورٹر) بھیجا جائے۔ ہم معاہدے کے بہت قریب ہیں۔‘
انہوں نے مجوزہ قرارداد کی تفصیلات تو نہیں بتائیں لیکن ان کا کہنا تھا کہ یہ متوازن ہوگی۔ لیکن کچھ سفارتکاروں کا کہنا ہے کہ ابھی بھی کئی معاملات ایسے ہیں جن پر اختلاف موجود ہے۔
روس اور چین کو ایران پر مزید پابندیاں لگانے پر راضی کرنا اس وقت سے اور بھی مشکل ہوگیا ہے جب پچھلے ماہ ایک امریکی خفیہ رپورٹ سامنے آئی تھی جس میں کہا گیا ہے کہ ایران نے اپنا جوہری اسلحہ بنانے کا پروگرام سال دو ہزار تین سے معطل کر رکھا ہے۔