Saturday, 19 January, 2008, 12:09 GMT 17:09 PST
کابل سے طالبان حکومت کے خاتمے کے چھ برس بعد افغانستان میں سکیورٹی سے متعلق تحقیقی کام کرنے والے ایک ادارے کے تجزیے کے مطابق مغربی افواج کی طالبان کے خلاف جنگ کا ابھی آغاز ہی ہوا ہے، لیکن اس میں ٹیکنالوجی اور بظاہر قوت کے بہت زیادہ فرق کے باوجود اس جنگ میں طالبان کی کامیابی کے امکانات ختم نہیں ہوئے۔
غیر سرکاری ادارے افغانستان نیشنل سیکیورٹی آرگنائزیشن کے مطابق گزشتہ برس عملی طور پر ماضی کے مقابلے میں زیادہ طالبان ، نیٹو اور امریکی افواج کے خلاف حملوں میں شامل ہوئے۔
اس ادارے کے مطابق طالبان کے خلاف جنگ میں امریکی اور نیٹو افواج ایک ایسے دور میں داخل ہو رہی ہیں جہاں انہیں بڑے وسیع محاذوں اور شدید ترین مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ادارے نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ نیٹو اور امریکی افواج یہ جنگ ہار بھی سکتی ہیں۔
نیٹو افواج مستقل یہ دعویٰ کرتی رہی ہیں کہ طالبان کے خلاف انہیں کامیابی حاصل ہو رہی ہے اور یہ پہلی بار ہے کہ کسی تحقیقی ادارے نے افغانستان میں موجود امریکی اور نیٹو افواج کی ناکامی کا اس انداز میں امکان ظاہر کیا ہو۔
دوسری جانب مشرقی صوبے کنر میں نیٹو اور افغان فوج نے دعوٰی کیا ہے اس نے بیس گھنٹوں پر مشتمل شدید لڑائی میں بیس سے تیس طالبان جنگجوؤں کو ہلاک کردیا ہے۔
نیٹو کے ایک ترجمان کے مطابق نیٹو اور افغان دستوں نے اس خفیہ اطلاع کے بعد کہ شورش پسندوں کا ایک گروہ صوبۂ کنر میں فوجی اڈے پر حملے کی تیاری کررہا ہے، طالبان کے خلاف یہ کارروائی کی۔ ابھی تک طالبان کی جانب سے اس دعوے پر کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا ہے۔