Wednesday, 16 January, 2008, 03:02 GMT 08:02 PST
امریکی حکومت نےتصدیق کی ہے کہ وہ افغانستان میں مزید تین ہزار فوجی بھیج رہی ہے ۔اِن امریکی فوجیوں کی اکثریت کو افغانستان کے جنوب میں بھیجا جا رہا ہے جہاں وہ پہلے سے موجود نیٹو افواج میں شامل ہوں گے۔
تین ہزار امریکی فوجیوں کے افغانستان میں پہچنے کے بعد افغانستان میں نیٹو افواج کی تعداد چون ہزار ہو جائے گی۔
امریکہ نے عراق میں تیس ہزار اضافی فوج بھیج کر عراق میں مزاحمت تحریک کو قدرے قابو کر لیا ہے اور اس کے پالیسی سازوں کا خیال ہے کہ افغانستان میں فوج کمک کے ذریعے طالبان کے بڑھتے ہوئے اثر کو قابو کیا جا سکتا ہے۔
نیٹو افواج کے سپریم کمانڈر جنرل جان کریڈاک نے بی بی سی کو انٹرویو میں اِس تاثر کی نفی کی کہ افغانستان میں مزاحمتی تحریک زور پکڑ رہی ہے اور ملک مکمل تباہی کی جانب جا رہا ہے۔
انہوں نے نیٹو اتحاد میں شامل ممالک پر زور دیا کہ افغانستان میں اہداف حاصل کرنے کے لیےایک لمبی جنگ لڑنا ہوگی۔
ان
نیٹو افواج کے سپریم کمانڈر نے نیٹو ممالک کو یہ سمجھنا چاہیے کہ یہ جلدی حل ہونے والا مسئلہ نہیں ہے ۔’آنے والے برسوں میں شاید
ہمیں اتنی جنگ نہ لڑنی پڑے لیکن کسی نہ کسی حد تک اِس کی ضرورت کافی عرصے تک رہے گی۔‘