Tuesday, 15 January, 2008, 02:24 GMT 07:24 PST
اسرائیل اور فلسطین کےحکام نے کہا ہے کہ یروشلم میں ہونےوالے مذاکرات کا پہلا دور انتہائی مثبت رہا ہے۔
دو گھنٹے تک جاری رہنے والے مذاکرات میں اسرائیل کی نمائندگی اسرائیلی وزیر خارجہ ٹزیپی لوینی اور فلسطین کی نمائندگی احمد قریع نے کی۔
مذاکرات میں یروشلم، فلسطینی سرحدوں غرب اردن میں یہودی بستیوں کے موضوعات پر بات چیت کی گئی۔
فلسطینی مذاکرات کار احمد قریع نے مذاکرات کے بعد کہا کہ بینادی مسائل کے بارے ’عام‘ گفتگو ہوئی۔انہوں نے کہا کہ مذاکرات اچھے ماحول میں ہوئے لیکن ساتھ ہی خبردار کیا کہ راستے میں مشکلات کافی ہیں۔
اسرائیلی وزیر خارجہ نے کہا کہ اچھے ماحول میں بامقصد مذاکرات ہوئے لیکن انہوں نے مذاکرات کی تفصیل بتانے سے انکار کیا۔
اسرائیلی وزیر خارجہ نے کہا کہ ماضی کے تجربات کی روشنی میں بند کمرے میں ہونے والے مذاکرات کے بارے میں وہ اس وقت تک کچھ افشا نہیں کریں گی جب تک کوئی نتیجہ نہ نکل آئے۔
یہ مذاکرات امریکی صدر جارج بش کے اسرائیل اور مقبوضہ علاقوں کے دورے کے فوراً بعد ہو رہے ہیں۔
اس دورے کے دوران صدر بش نے کہا تھا کہ انہیں یقین ہے کہ اس سال کے آخر تک اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن معاہدہ طے پا جائے
گا جس کے بعد فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ ہموار ہو جائے گی۔