Tuesday, 15 January, 2008, 01:56 GMT 06:56 PST
بش انتظامیہ نے سعودی عرب کو حساس فوجی ٹیکنالوجی بیچنے کے اپنے پروگرام سے امریکی کانگریس کو باقاعدہ طور پر مطلع کر دیا ہے۔
یہ اعلان صدر بش کا دورۂ سعودی عرب شروع ہونے کے چند گھنٹے بعد کیا گیا۔
ایک سو تئیس ملین ڈالر کے اس سودے کے تحت سعودی عرب کو ’لیزر گائڈڈ‘ بم ٹیکنالوجی فراہم کی جائے گی۔
اسی دوران صدر بش نے کہا ہے کہ وہ سعودی فرما روا شاہ عبداللہ سے تیل کی زیادہ قیمت پر بات کر رہے ہیں۔ سعودی عرب تیل برآمد کرنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے۔
صدر بش نے کہا کہ’میں امید کرتا ہوں کے تیل برآمد کرنے والے ملک پیداوار بڑھائیں گے۔۔۔کیونکہ اگر دنیا کی سب سے بڑی معیشت کو نقصان پہنچتا ہے تو اس سے خریداری کم ہوگی اور تیل اور گیس کی فروخت بھی متاثر ہوگی‘۔
صدر بش سعودی عرب کے پہلے دورے پر ہیں۔ مشرق وسطیٰ کے دورے پر امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس بھی ان کے ہمراہ تھیں لیکن اب وہ عراقی رہنماؤں سے ملاقات کے لیے بغداد پہنچ گئی ہیں۔
بی بی سی کے نامہ نگار میتھیو پرائس کے مطابق صدر بش کی شاہ عبداللہ سے ملاقات کی تفصیلات پریس کو آگاہ نہیں کیا گیا ہے جیسا کہ سعودی عرب میں عام طور پر ہوتا ہے۔ لیکن خیال کیا جاتا ہے کہ تیل کی قیمت کے علاوہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان مذاکرات اور جمہوریت پر بھی تبادلہ خیال ہوا ہے لیکن بعد میں ایران کے جوہری پروگرام پر تشویش غالب رہی۔
امریکہ کا موقف ہے کہ ایران پورے خطے کے لیے عدم استحکام کا باعث ہے اور اسے اپنے جوہری پروگرام کو ختم کر دینا چاہیے۔
سعودی عرب کو جو لیزر گائڈڈ بم بیچے جارہے ہیں وہ سیٹلائٹ کی مدد سے اپنے اہداف کو تباہ کرتے ہیں۔ یہ سودہ بیس ارب ڈالر کے اس پیکج کا حصہ ہے جس کا اعلان امریکہ نے خلیج میں اپنے اتحادیوں کے لیے کیا تھا۔
واشنگٹن سے ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ڈیموکریٹک پارٹی نے اشارہ دیا ہے کہ وہ اس سودے کی مخالفت نہیں کرے گی حالانکہ بعض حلقوں کے مطابق یہ ٹیکنالوجی اسرائیل کے لیے خطرہ ثابت ہوسکتی ہے۔