Saturday, 12 January, 2008, 15:40 GMT 20:40 PST
ڈیوڈ لائن
بی بی سی نیوز نائٹ
افغانستان کی حکومت نے مدارس کے متعلق اپنی پالیسی تبدیل کر دی ہے۔ یہ وہی مذہبی اسکول ہیں جنہوں نے بنیاد پرستوں کی ایک پوری نسل کو متاثر کیا اور جو آگے چل کر طالبان بنے۔
نئی پالیسی میں ان مدارس کو بند کرنے کے بجائے حکومت انہیں موجودہ نظام میں شامل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور ان کے نصاب میں دیگر موضوعات(سبجکٹس) شامل کرنے پر زور دیا جا رہا ہے۔
تعلیم کے وزیر حنیف اتمر کا کہنا ہے ’ہماری پچھلی پالیسی کی کافی نکتہ چینی کی گئی تھی۔ دراصل اس پالیسی میں مدارس کو بند کرنے کی بات تھی اور انہیں سماج سے درکنار کرنے کے بعد انہیں مکمل طور پر بنیاد پرستوں کے حوالے کرنے کی پالیسی تھی‘ ۔
لیکن اس نئی پالیسی کے تحت ان سکولوں میں چالیس فی صد اسلامی تعلیم دی جائے گی لیکن باقی ساٹھ فیصد میں تاریخ، جغرافیہ، سائنس اور دیگر زبانوں کے علاوہ کمپیوٹر کی بھی تعلیم دی جائے گی۔
وزیر تعلیم لوگوں کو یاد دلانا چاہتے ہیں کہ ہزاروں سال پہلے پیدا ہونے والے اور جدید یورپی علم طب کے بانی ابن سینا نے افغانستان کے ایک مدرسے میں ہی تعلیم حاصل کی تھی۔’مجھے لگتا ہے کہ ہمارے مدارس واپس اسی تاریخی اہمیت کی طرف لوٹ جائيں گے۔ چار سے پانچ صدی قبل یہ مشرق کے بہترین تعلیمی ادارے تھے‘۔
افغانستان کی پارلیمان کے سپیکر صبغت اللہ مجدیدی کا کہنا ہے’ پاکستان میں ہمارے بعض طلبہ مذہبی تعلیم حاصل کرتے ہیں اور انہیں دہشتگردی کی بھی تربیت فراہم کی جاتی ہے‘۔
’اگر افغانستان میں مناسب مدارس موجود ہوں گے تو طلبہ کو پاکستان جانے کی کوئی ضرورت نہیں پڑے گی اور یہاں انہیں اسلام کی صحیح تعلیم دی جائے گي ‘۔
مسٹر مجدیدی نے یہ بات کابل کے سب سے پرانے مدرسے کی ایک نئی عمارت کی بنیاد رکھنے کے موقع پر کہی۔ اس عمارت کو حکومت کی نئی پالیسی کے تحت مالی مدد فراہم کی گئی ہے۔
لیکن کئی مدارس نے اس نئی پالیسی کی مخالفت بھی کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مدارس میں طلبہ قرآن کی تعلیم حاصل کرنے آتے ہيں اور اس کے علاوہ کچھ اور کرنے کے لیے ان کے پاس کوئی وقت نہیں ہے۔ اگر حکومت دیگر موضوعات کو بھی شامل کرتی ہے تو اس کے خراب نتائج سامنے آئیں گے۔
اس لیے کسی کے پاس اتنا علم نہیں ہوگا کہ وہ فتویٰ جاری کر سکے۔
مخالف مدارس میں سے ایک مدرسے کے سربراہ ملاللہ رحیم اللہ عزیزی کا کہنا ہے کہ اگر وہ دیگر سبجکٹس شامل کرنے کے لیے دباؤ ڈالیں گے تو طلبہ پاکستان کے مدارس کا رخ کرنے لگے گے۔
’ایک مذہبی طالب اگر افغانستان میں تعلیم حاصل کرنا چاہتا ہے اور جب وہ دیکھتا ہے کہ یہاں صحیح طریقے سے تعلیم نہيں دی جا رہی ہے تو اس کے پاس دوسرے ملک جانے کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں بچے گا‘۔
لیکن حکومت پر امید نظر آ رہی ہے۔ تعلیم کے وزیر حنیف اتمر کا کہنا ہے کہ ’پاکستان میں پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر تقریبا 15000 مدارس ہیں اور پندرہ لاکھ طلبہ ہیں۔ اگر ہم نئی پالیسی کے تحت مناسب مدارس کا نظام درست کرنے میں پیسے لگائیں تو اس وقت جو افغانستان کے طلبہ پاکستان میں تعلیم حاصل کر رہے ہيں وہ واپس اپنے ملک آ جائيں گے‘۔
لیکن حکومت کے سامنے نئی پالیسی کا حدف حاصل کرنے کے لیے ایک اور پریشانی کا سامنا ہے اور وہ ہے وسائل کی کمی۔ اور اس کمی کو حاصل کرنے کے لیے حکومت پر زور کوشش کر رہی ہے۔