Saturday, 12 January, 2008, 11:59 GMT 16:59 PST
صدر جارج بش نے کہا ہے کہ عراق میں گزشتہ سال امریکی فوجیوں کی تعداد میں اضافے کے بعد وہاں صورت حال میں بہتری کی امید لوٹ آ ئی ہے۔
کویت میں واقع امریکی فوجی اڈے کے دورے کے پر امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی فوجیوں کے انخلاء کے منصوبے پر جولائی تک عمل در آمد متوقع ہے تاہم مزید فوجیوں کی واپسی سے متعلق کوئی فیصلہ نہیں لیا گیا ہے۔
عراق میں تعینات امریکی فوج کے کمانڈر جنرل ڈیوڈ پیٹرئس نے صدر بش کو بریفنگ دی۔ بعد ازاں انہوں نے فوجی اڈے میں موجود امریکی فوجیوں سے ملاقات بھی کی۔ اسرائیل اور فلسطینی رہنماؤں سے ملاقاتوں کے بعد صدر بش ان دنوں خلیجی ممالک کے دورے پر ہیں۔
نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ صدر بش اپنے بعض اہم عرب حلیفوں کو اس بات پر رضامند کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ مشرق وسطی میں قیام امن سے متعلق ان کے اقدام کی حمایت کریں۔
صدر بش نے ایران اور شام سے کہا ہے کہ وہ تشدد کے خاتمے کے لیے مزید اقدامات اٹھائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تشدد کو بھڑکانے میں تہران کا کردار سب کے سامنے آ چکا ہے اور شام کو عراق میں مزاحمت کاروں کے داخلے کو روکنے کے لیے مزید اقدامات اٹھانے چاہئیں۔
صدر بش نے کیمپ عارفجان میں امریکی فوجی اڈے میں واقع کمانڈنٹ سینٹر میں جنرل پیٹرئس اور عراق میں موجود امریکی سفیر ریان کروکر
سے ملاقات کی۔ جنرل پیٹرئس اور مسٹر کروکر نے عراق میں امن و امان کی بہتر ہوتی صورت حال سے متعلق صدر بش کو بریفنگ دی۔
![]() |
|
| صدر بش نے کیمپ عارفجان میں امریکی فوجیوں سے ملاقات کی |
ان کا مزید کہنا تھا: ’اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ہم سب مل کر جو کچھ کرسکتے ہیں کریں کہ 2008 میں صورت حال میں اس سے کہیں زیادہ بہتری آئےگی۔ فوجیوں کے واپسی سے متعلق مزید کوئی فیصلہ نہیں لیا جائے گا باوجود اس کہ جولائی تک بیس ہزار فوجیوں کے انخلاء کے منصوبے پر عمل درآمد متوقع ہے‘۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ فوجیوں کی تعداد میں کسی نئی کٹوتی کا انحصار زمینی صورت حال پر ہوگا اور عراق میں موجود امریکی کمانڈر جنرل پیٹریاس اس بات کا فیصلہ کریں گے کہ آیا یہ کب تک ممکن ہے۔ جنرل پیٹریاس رواں سال مارچ میں صدر بش کو دوبارہ بریفنگ دیں گے۔
اسرائیل کا دورے کرکے کویت پہنچنے پر صدر بش نے شیخ صباح سے ملاقات میں دوطرفہ امور پر بات چیت کی۔ امریکی صدر بش بحرین، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کا دورہ بھی کریں گے۔ خلیجی ممالک کے دورے کے دوران صدر بش کی کوشش یہی ہے کہ وہ اپنے اہم عرب حلیفوں کو اس بات پر رضا مند کریں کہ اگر فلسطینی صدر محمود عباس اسرائیل سے مذاکرات کرتے ہیں تو وہ ان کی حمایت کریں۔
بی بی سی کے میتھو پرائس کا کہنا ہے کہ ان کے حالیہ دورے کے دوسرے مرحلے کو بہت سے لوگ ’مشن امپاسبل‘ کا نام دے رہے ہیں۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ خلیجی ممالک کے رہنما صدر بش کو یہ باور کروانے کی کوشش کریں گے کہ وہ فلسطین کے مسئلے کو فوجی نہیں بلکہ پرامن طریقے سے حل کیے جانے کے خواہش مند ہیں۔